بشار کے کانوں میں پڑا اب تک کا سخت ترین تبصرہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی ٹی وی چینل "NBC" کا شامی صدر بشار الاسد سے انٹرویو کسی زاویے سے بھی ایک عام انٹرویو نہیں تھا۔ یہ شامی صدر سے پوچھے گئے سوالات کے لحاظ سے سب سے زیادہ جرات مندانہ انٹرویو تھا۔ یوٹیوب پر انٹرویو کے اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد ایک شامی میڈیا پرسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بشار الاسد نے ان سوالات کو اس طرح لیا گویا کہ ان میں دمشق کے موسم اور درجہ حرارت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہو۔

انٹرویو کے دوران امریکی صحافی نے بشار سے کہا کہ " یقینا آپ ایک ایسے آدمی کا تاثر دے رہے ہیں جو یہ محسوس کرتا ہے کہ اُس کے نام سے شامی عوام کے خلاف ہونے والی خوف ناک کارروائیوں کی ذمہ داری کسی طور اُس پر عائد نہیں ہوتی"۔

ایک موقع پر بشار الاسد نے شام میں امریکی خاتون صحافی میری کولفن کے قتل پر غیرمسبوق "بے التفاتی" کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حالت جنگ ہے، وہ غیر قانونی طور پر شام میں داخل ہوئی اور اس نے دہشت گردوں کے ساتھ کام کیا لہذا جو کچھ ہوا اس کی وہ خود ذمہ دار ہے۔"

اس پر امریکی صحافی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا "کولفن کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار وہ خود ہے؟" اس پر بشار نے باور کرایا کہ "یقینا"۔

بشار الاسد نے پانچ سال کے دوران اپنے فیصلوں کے ذریعے شامی فوج کے ہاتھوں لاکھوں شامیوں کے قتل کا جواز پیش کرتے ہوئے اسے محض جنگ کا نتیجہ قرار دیا۔ اس پر امریکی صحافی نے سوال کیا کہ "کیا آپ جنگ کو اسی طرح بیان کرتے ہیں مثلا ناشتے کی میز پر اپنے بچوں کے سامنے؟"

پھر صحافی نے بشار پر ایک اور سوال داغ دیا "کیا ایسا بھی ہوا کہ جو کچھ شام میں ہو رہا ہے اس پر آپ روئے ہوں؟"۔ یقینا جواب نفی میں تھا۔

اس کے بعد امریکی صحافی نے پوچھا کہ "آپ کا آئندہ قدم کیا ہوگا، کیا آپ اپنا سفر جاری رکھیں گے؟ اقتدار میں آپ کی اور آپ کے والد کی مجموعی طور پر موجودگی کو 46 برس گزر چکے ہیں ، کیا یہ درست ہے؟"

جواب میں بشار نے اپنے والد سے انتہائی درجے کی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے درشت لہجے میں کہا کہ "نہیں، یہ درست نہیں۔ اس لیے کہ وہ ایک صدر تھے اور میں ایک دوسرا صدر ہوں۔ میں اقتدار میں 16 برس سے ہوں نہ کہ 46 برس سے!"

صحافی نے پوچھا " آپ کے نزدیک تاریخ آپ کو کس طرح یاد رکھے گی؟"۔ جواب میں بشار نے کہا کہ ان کو اس کی خبر نہیں، پھر اپنے جواب کو دُہراتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہوں نے غیرملکی مداخلت سے اپنے وطن کو آزاد کرایا اور اپنے وطن کی خودمختاری کو برقرار رکھا!

اس کے بعد امریکی صحافی نے غیرمسبوق نوعیت کی براہ راست تنقید کی توپ کا رُخ بشار الاسد کی جانب کردیا تاکہ وہ اپنے خلاف انتہائی تُند بیان کو بھی سُن لیں۔ صحافی کا کہنا تھا کہ " آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ تاریخ کا پہلا مسودہ ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آپ ایک سخت دل آمر ہیں، آپ وہ آدمی ہیں جس کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں، حد تو یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں پر لگا خون آپ کے والد کے ہاتھوں پر موجود خون سے بھی زیادہ ہے۔"

اس پر بشار الاسد نے امریکی صحافی کو ایک جراح طبیب کی مثال دی جو گینگرین سے متاثرہ مریض کے ہاتھ کو کاٹ دیتا ہے۔ پھر اسی کی بنیاد پر جواب دیا کہ " وہاں آپ یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک قاتل طبیب ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے بقیہ جسم کو بچانے کے لیے اپنا کام کیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں