خواتین کی عصمت دری کا حامی اسرائیلی فوج کا چیف ربی تعینات

ایال کریم کی تقرری پرخواتین کے حلقوں میں غم وغصے کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غیریہودی خواتین کی ناموس کو فوجیوں کے لیے حلال قرار دینے والے یہودی مذہبی پیشوا کرنل ایال کریم کو فوج میں چیف ربی کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے جس پر ملک میں خواتین، سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کے عبرانی اخبارات نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ فوج میں چیف ربی کے عہدے پر فائز ہونے والے کرنل ایال کریم ماضی میں فوج میں مذہبی پیشواؤں کے ادارے میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ حال ہی میں وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے انہیں فوج میں چیف ربی کے عہدے پرتعینات کرنے کی منظوری دی جس کے بعد چیف آف اسٹاف کمیٹی نے بھی ایال کریم کو چیف ربی کے طورپر فوج میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔

دوسری جانب ملک میں حقوق نسواں کے لیے سرگرم تنظیموں، ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی رہ نماؤں نے ایال کریم کی تقرری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہودی ربی ’ایال کریم‘ نے اپنے اس بیان میں شہرت پائی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’اگرچہ غیریہودی عورتوں کے ساتھ یہودی مردوں کی ہم بستری انتہائی خطرناک جرم ہے مگر حالت جنگ میں ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے‘۔ موصوف نے سنہ 2003ء میں فلسطینی فدائی حملہ آوروں کے بارے میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ زخمی حالت میں پکڑے گئے فدائی حملہ آوروں کا علاج کرانے کے بجائے انہیں فوری طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا جانا چاہیے۔

ایال کریم یہودیوں کے ایک سرکردہ مذہبی ادارے’بنی عکیفا‘ سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ ماضی میں فوج کے چھاتہ بردار بریگیڈ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ حال ہی میں ان کی تقرری فوج سے ریٹائر ہونے والےچیف ربی رافی بیریز کی جگہ عمل میں لائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کرنل ایام کریم نے اپنے ایک فتویٰ نما ایک بیان کے نتیجے میں اسرائیلی مذہبی حلقوں میں شہرت حاصل کی تھی۔ ایال کریم نے جنگ کے دوران فوجیوں کے لیے غیریہودی خواتین کی عصمت دری جائز ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ فوج کی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور سپاہیوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے ان کی جنسی تسکین ضروری ہے۔ اگر جنگ کے دوران فوجی غیریہودی خواتین کو جنسی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ کی کئی خواتین ارکان اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف سے ایال کریم کی تقرری کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔

رکن کنیسٹ عایدہ توما سلیمان کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی مشیر قانون سے رجوع کرتے ہوئے ایال کریم کی تقرری کا فیصلہ واپس لینے کی مہم جاری رکھیں گے۔ ان کی اس مہم کئی دوسری سرکردہ خواتین اور تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں