شام وعراق میں بیلجین جنگجوؤں کی تفصیلات منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی ملک بیلجیم کی وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بیلجیم کے 457 شہری شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کے سفر پر جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شام اور عراق جانے والوں میں ایک تہائی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔

نجی ٹی وی نیٹ ورک’وی ٹی این‘ نے سرکاری اعدادو شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کا سفر کرنے والے 457 بیلجین شہریوں میں 266 نے انتہا پسند گروپوں میں شمولیت اختیار کی یا شمولیت کی کوشش کی ہے۔ یہ لوگ ابھی تک شام اور عراق ہی میں موجود ہیں۔ ان میں سے 90 لاپتا ہیں یا ہلاک ہوچکے ہیں۔

بیلجین وزارت داخلہ کے ترجمان جان گمبون نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’وی ٹی ان‘ کے اعداد و شمار درست ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیلجیم کے چار باشندے حال ہی میں شام اور عراق کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ شورش زدہ ملکوں کا سفر کرنے والے 114 بیلجین باشندے واپس آگئے ہیں۔ 73 افراد کو شام اور عراق جانے کی کوشش کے دوران سرحد پر روک لیا گیا۔

پہلی بار بیلجیم کی خواتین اور بچوں کی شام میں موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں شدت پسندوں میں شمولیت کے لیے جانے والوں میں 328 مرد، 86 عورتیں اور 12 بچے شامل ہیں۔ شام جانے والی خواتین میں 50 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ محاذ جنگ پرموجود ہیں۔18 واپس آچکی ہیں جب کہ 17 کو شام اور عراق کے سفر سے روک دیا گیا۔

کم عمر افراد میں سے تین کی عمریں 12 اور 18 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں سے دو واپس آگئے جنہیں سرحد پر چھ ماہ تک حراست میں بھی رکھا گیا۔ 12 سال سے زاید عمر کے 30 بیلجین باشندے اب بھی وہاں موجود ہیں۔

ساڑھے گیارہ کروڑ آبادی والے یورپی ملک سے پانچ سو کے لگ بھگ شہریوں کا شام اور عراق میں شدت پسند گروپوں میں شامل ہونے کا اعلان انتہائی خطرناک ہے۔ کسی دوسرے یورپی ملک سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ شدت پسند گروپوں میں شمولیت کے لیے دوسرے ملکوں کو نہیں گئے۔

بیلجین حکام نے پچھلے سال 13 نومبر کو پیرس اور رواں سال 22 مارچ کو برسلز میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد شدت پسندوں کی طرف میلان کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ پیرس حملوں میں 130 اور برسلز میں 32 افراد مارے گئے تھے۔ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’داعش‘ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں