غزہ کی ’اریز‘ گذرگاہ آٹھ سال بعد کھولنے کا اسرائیلی فیصلہ

گذرگاہ سامان کی ترسیل کے لیے گذشتہ آٹھ سال سے بند تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسلسل آٹھ سال بند رکھنے کے بعد اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان افراد اور سامان کی ترسیل کےلیے استعمال ہونے والی ’ایریز‘[کرم ابو سالم] گذرگاہ کو آج جمعرات سے سامان کی ترسیل کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے زیرانتظام سول ایڈ منسٹریشن کے ترجمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ آٹھ سالہ بندش کے بعد کرم ابو سالم گذرگاہ کو آج جمعرات سےغزہ کو سامان کی ترسیل کے لیے کھولا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2006ء کے بعد سے بندش کا شکار گذرگاہ سے مشروط طور پر شہریوں کو آمد ورفت کی اجازت دی گئی تھی مگر وہاں سے غزہ کی پٹی کو سامان کی ترسیل کا عمل بند تھا۔غزہ کے شمال میں واقع کرم ابو سالم جنوبی فلسطینی علاقوں کو ملانے والی اہم گذرگاہ ہے جہاں سے اسرائیل کی اسدود بندرگاہ کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔

حال ہی میں ترکی کی جانب سے غزہ کی پٹی کو بھیجے گئے امدادی سامان کو اسدود بندرگاہ لایا گیا تھا جہاں سے اس سامان کو ٹرکوں پر لاد کر غزہ کی پٹی تک پہنچایا جا رہا ہے۔ کرم ابو سالم گذرگاہ کو اسرائیلی فوج نے سنہ 2006ء میں اس وقت بند کیا تھا جب فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کا ایک فوجی یرغمال بنا لیا تھا۔ سنہ 2007ء میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کی کامیابی کےبعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ مزید سخت کردیا تھا۔

عالمی بنک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرم ابو سالم گذرگاہ کی بندش کے نتیجے میں غزہ میں درآمدات وبرآمدات کا عمل بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ غزہ کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں