.

یمن : عدن کے گورنر قاتلانہ حملے میں بال بال بچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے عدن میں عینی شاہدین کے مطابق جمعے کے روز صوبے کے گورنر کے قافلے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر عیدروس الزبیدی اور ان کے محافظین کو لے جانے والی گاڑیاں انماء نامی علاقے سے گزر رہی تھیں کہ اس دوران سڑک پر کھڑی ایک گاڑی میں دھماکا ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک فوجی اہل کار زخمی ہوگیا۔ کسی جانب سے بھی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے ۔

یمن میں ایک سال سے زائد عرصے سے جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور یمنی حکومت کی جانب سے عارضی دارالحکومت بنائے گئے شہر میں انارکی پھیلی ہوئی ہے۔

گزشتہ برس 6 دسمبر کو داعش تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے کار بم دھماکے میں عدن کے گورنر کی ہلاکت کے بعد الزبیدی کو نیا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

الزبیدی کو بھی بارود سے بھری گاڑیوں کے حملوں میں متعدد بار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

یمن میں جنگ چھڑ جانے کے بعد سے داعش تنظیم نے اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ تنظیم جزیرہ نما عرب میں القاعدہ تنظیم کے ایک مضبوط مدمقابل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ القاعدہ تنظیم گزشتہ برسوں کے دوران یمن میں سب سے بڑی شدت پسند تنظیم تھی۔