اسرائیلی فوج نے شامی ڈرون کو بھگانے کے لیے میزائل داغ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے گولان کی چوٹیوں کی فضائی حدود میں ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کی جانب دو میزائل داغے ہیں جس کے بعد وہ ڈرون شام کی فضائی حدود کی جانب چلا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک ڈرون گولان کی چوٹیوں کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔اس کی جانب دو پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل فائر کیے گئے تھے۔اس کے بعد وہ ڈرون شام کی جانب واپس چلا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

درایں اثناء شامی باغیوں کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے اردن کی سرحد کے ساتھ واقع گاؤں شجراء پر فضائی حملہ کیا ہے۔یہ گاؤں اسرائیلی سرحد کے نزدیک بھی واقع ہے۔اس پر شہدائے یرموک گروپ کا قبضہ ہے۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش سے وابستہ ہے۔

واضح رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران شامی علاقے سے اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کی جانب ماضی میں متعدد مرتبہ راکٹ فائر کیے جاچکے ہیں اور القنیطرہ کے علاقے میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے دوران داغے جانے والے گولے بھی اسرائیلی حدود میں گرتے رہے ہیں اور اسرائیل ان کے ردعمل میں شامی علاقوں پر فضائی حملے یا توپ خانے سے گولہ باری کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے چند ماہ قبل گولان کی چوٹیوں کے شام کی عمل داری والے علاقے پر ایک فضائی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تب ایک نشریے میں بتایا تھا کہ اسرائیلی دشمن نے صوبہ القنیطرہ میں واقع ایک گاؤں الکوم میں ایک کار کو حملے میں نشانہ بنایا تھا اور اس میں سوار پانچ غیر مسلح شہری ہلاک ہوئے تھے۔بعد میں ان کی شناخت لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے طور پر ہوئی تھی اور ان میں ایک ایرانی جنرل بھی تھا۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے سے قبل گولان کی چوٹیوں پر شامی فوج کی چودہ پوزیشنوں کو نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ اس نے یہ حملے شامی علاقے سے اسرائیل کے شمالی علاقے جلیل کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کے ردعمل میں کیے ہیں۔دوماہ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل نے شام میں دسیوں فضائی حملے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے پڑوسی ملک شام کے گولان چوٹیوں کے بارہ سو مربع کلومیٹر علاقے پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور چودہ سال کے بعد 1981ء میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے گولان کی چوٹیوں پر قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں