شامی فوج کا حلب میں باغیوں کے واحد سپلائی روٹ پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب جانے والی واحد شاہراہ پر قبضہ کر لیا ہے اور ان علاقوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا ہے۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے حلب شہر سے شمال کی جانب جانے والی کاستیلو روڈ پر قبضے اور اس کو منقطع کرنے کے لیے دو ہفتے قبل حملے کا آغاز کیا تھا۔حلب کے مشرقی علاقوں میں محصور شامیوں تک اسی شاہراہ کے ذریعے خوراک اور دوسرا سامان پہنچتا رہا ہے۔

باغی گروپوں کے چارذرائع نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے اپنی اتحادی ملیشیاؤں اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے کاستیلو روڈ کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اس کو مکمل طور پر کاٹ دیا ہے۔

حلب سے تعلق رکھنے والے ایک باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک تباہی ہے لیکن ہم دیکھیں گے کہ لڑائی کیسے ختم ہوتی ہے۔میں نے نہیں جانتا کہ وہ انھیں پسپا کردیں گے یا اس طرح کی صورت حال برقرار رہے گی''۔ان کا اشارہ غالباً باغی گروپوں کی شامی فوج کو پسپا کرنے کی صلاحیت کی جانب تھا۔

باغیوں کے ایک مقامی کمانڈ سنٹر نے حلب کے مکینوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کاستیلو روڈ پر سفر سے گریز کریں۔انھوں نے یہ انتباہ سرکاری فورسز کی شہر سے منی بسوں اور کاروں میں راہ فرار اختیار کرنے والے متعدد مکینوں پر فائرنگ کے بعد جاری کیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا اور برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق کاستیلو روڈ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جھڑپوں میں اتوار کو سولہ باغی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔تاہم انھوں نے شامی فوج کے جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔آج سارا دن باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری رہی ہے اور ایک باغی گروپ جیش النصر کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں نے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

ایک اور باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک بڑا حملہ شروع کیا ہے اور توپ خانے ،لڑاکا طیاروں اور ٹینکوں کے ذریعے باغیوں کے آخری سپلائی روٹ پر بمباری کی ہے۔

اس کمانڈر نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''ہم اب مکمل محاصرے میں ہیں یہاں کوئی سرنگ یا تزویراتی ذخیرہ بھی نہیں ہے جو زیادہ عرصہ ساتھ دے سکے۔تین لاکھ افراد کے لیے دو سے تین ماہ کا ہی راشن رہ گیا ہے۔اس کے بعد شہر میں بھوک ناچے گی اور پھر وہ (شامی فوج) شہر کو قحط کا شکار کرے گی اور آپ (باغی) زیادہ دیر مزاحمت نہیں کرسکیں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں