عراق :مقتدیٰ الصدر کی پیروکاروں کو امریکی فوجیوں پر حملوں کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شعلہ بیان بااثر شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے اپنے پیروکاروں کو ملک میں داعش کے خلاف فوجی مہم میں شریک امریکی فوجیوں پر حملوں کی ہدایت کردی ہے۔

امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے سوموار کے روز عراق میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے مزید 560 فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔وہ عراقی فورسز کے ساتھ مل کر داعش سے شمالی شہر موصل کا قبضہ واپس لینے کے لیے فوجی کارروائی میں حصہ لیں گے۔ان کی آمد کے بعد عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 4650 ہوجائے گی۔

اس اعلان کے بعد مقتدیٰ الصدر نے اپنی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیروکار کے استفسار کے جواب میں یہ بیان پوسٹ کیا ہے۔اس پیروکار نے ان سے مزید امریکی فوجی بھیجنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے کہا تھا۔انھوں نے کہا کہ '' وہ (امریکی فوجی) ہمارے لیے ایک ہدف ہوں گے''۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر کی مسلح ملیشیا مہدی آرمی نے مارچ 2003ء میں عراق پر امریکا کی قیادت میں فوجوں کی چڑھائی کے بعد اپنے طور پر مزاحمتی جنگ لڑی تھی اور اس کے جنگجو امریکی فوجیوں پر حملے کرتے رہے تھے۔مقتدیٰ الصدر نے سنہ 2008ء میں مہدی آرمی کو خود ہی کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس کی جگہ ''امن بریگیڈز'' کی تشکیل کی تھی۔اس نے 2014ء میں سرکاری فورسز کی قیادت میں داعش کے جنگجوؤں کو بغداد کے نواح سے پسپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کی جانب اس سال کے دوران دو مرتبہ مارچ کیا ہے اور وہ وزیراعظم حیدر العبادی کی کابینہ میں شامل وزراء کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانیوں میں ملوّث وزراء کو ہٹا کر ایسے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ تشکیل دیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو۔مقتدیٰ الصدر کے الاحرار بلاک کی 328 ارکان پرمشتمل عراقی پارلیمان میں 34 نشستیں ہیں۔ انھیں بغداد کے غُربت زدہ شیعہ اکثریتی علاقوں کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں