لندن: محمد بن راشد مزدور طبقے کے درمیان میٹرو ٹرین میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کی شام برطانوی دارالحکومت لندن میں میٹرو ٹرین کے مسافر اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے اپنے درمیان متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمراں الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو دیکھا جو ٹرین کی نشست پر اپنے بیٹے اور دبئی کے ولی عہد الشیخ حمدان بن محمد بن راشد کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران بہت سے مسافروں نے ان کی تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر نشر کر دیں۔

الشیخ محمد بن راشد بہت سے برطانوی شہریوں کے نزدیک مشہور اور محبوب عرب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اس کی وجوہات میں دبئی کا حکمراں ہونا شامل اس لیے کہ کہ ہر سال ہزاروں برطانوی وہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ الشیخ محمد گھڑ سواری اور گھوڑوں کی دوڑ میں ایک عالمی ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کھیلوں کو برطانیہ میں بڑی مقبولیت حاصل ہے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی ٹیلی گراف" جس نے ٹرین میں بیٹھے ہوئے الشیخ محمد کی وڈیو بھی جاری کی ہے ، اس نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ دبئی کے حکمراں عام لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور ان کے اطراف کوئی محافظ نہیں ہے۔ یہ صورت حال معمول کے برخلاف ہے اس لیے کہ عام طور پر عرب ذمہ داران اور حکمرانوں کے اطراف پہرے داروں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔

اخبار کے مطابق الشیخ محمد کا شمار سوشل میڈیا پر انتہائی با اثر اور سرگرم شخصیات میں ہوتا ہے جہاں "ٹوئیٹر" پر ان کے فالوورز کی تعداد 18 لاکھ سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ لندن میں "میٹرو ٹرین" روزانہ آمدورفت کا ذریعہ ہے جس کو لاکھوں برطانوی بالخصوص نوکری پیشہ ، غریب افراد اور مزدور طبقہ استعمال کرتا ہے۔ رش کے اوقات میں میٹرو ٹرینوں میں شدید بھیڑ نظر آتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں