ایرانی کُرد عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی پیشمرگہ فورس نے پاسداران انقلاب کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اب تہران کی جانب سے عراقی کردستان کو دی جانے والی دھمکی کے بعد پیشمرگہ مقابلے کے نئے مرحلے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ تہران عراقی کردستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے چکا ہے جو ایران کی کرد تنظیموں کے گروپوں کو پناہ فراہم کررہا ہے۔

ایران کے شمال مشرق میں کرد علاقوں میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پاسداران انقلاب کے درمیان تقریبا ایک ماہ تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں جانبین کے درجنوں ارکان ہلاک ہوئے۔ اس دوران ایرانی فورسز کی جانب سے کرد دیہاتوں کے علاوہ عراقی کردستان کے اندر واقع علاقوں کو بھی توپوں کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سکریٹری جنرل مصطفی ہجری نے اعلان کیا تھا کہ 20 برس کے وقفے کے بعد پیشمرگہ کی مسلح کارروائیوں کا مقصد پہاڑوں اور شہروں کے درمیان کرد جدوجہد کو یکجا کرنا ہے۔ ہجری کے مطابق ایرانی کریک ڈاؤن اور کرد کارکنان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ تہران حکومت ایران میں کردوں اور دیگر قومیت کے حقوق کو تسلیم نہیں کر رہی۔

اسی سیاق میں کرد صحافی آسو صالح نے ایک تصویری رپورٹ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ارسال کی ہے جس میں پیش ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں پیشمرگہ کے ارکان کی تربیت کو دکھایا گیا ہے۔ آسو صالح قندیل کے پہاڑوں میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی پیشمرگہ فورس کی سرگرمیوں اور کارروائیوں کی کوریج کرتے ہیں۔

1

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں