سعودی مفتی اعظم نے "ديت" میں مبالغے سے خبردار کر دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزيز آل الشيخ نے دیت کی رقوم میں مبالغے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امر خون ریزی کو عام کردینے اور انسانی خون کی حرمت ختم کردینے کا "ذریعہ" بن سکتا ہے۔ سرکاری ٹی وی سعودی چینل 1 پر پروگرام کے دوران ایک شخص نے اپنے قریبی عزیز کے لیے مطلوب "1 کروڑ 90 لاکھ" ریال کی دیت کی رقم میں زکات کی رقم استعمال کرنے سے متعلق سوال کیا۔ اس کے جواب میں مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ "میں اس اس چیز پر اعانت کی نصیحت نہیں کروں گا۔ اندیشہ ہے کہ یہ امر بعض لوگوں کے یہاں خون ریزی کو عام کردینے اور انسانی خون کو حقیر کردینے کا ذریعہ بن جائے گا"۔

الشیخ عبدالعزیز نے دیت کی رقوم میں مبالغے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہ " ہمارے زمانے میں دیت کی رقم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور اب تو یہ 3 یا 4 کروڑ ریال تک پہنچ گئی ہے۔ یہ لوگوں کی زکات میں سے لی جاتی ہے اور غریبوں کے حق میں تنگی کا سبب بنتی ہے۔ میں اس چیز کی نصیحت نہیں کرسکتا"۔

سعودی مفتی اعظم نے قتل کے جرائم کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے ، اس لیے کہ ان لوگوں نے بے قصور لوگوں کو ناحق اور ظلم و زیادتی کی بنیاد پر قتل کیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں