قرآن و حدیث کی رُو سے داعشی "کافر" ہیں : ازہری عالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کی عظیم درس گاہ جامعہ الازہر میں علوم شریعہ کے پروفیسر ڈاکٹر احمد كريمہ نے باور کرایا ہے کہ داعش تنظیم کے ارکان " اللہ کی شریعت اور اس کے رسول علیہ الصلات و السلام کے لائی ہوئی ہدایت کے خلاف اپنے افعال اور جرائم کی وجہ سے کافر و فاجر ہیں اور وہ مرتد ہو کو ملت اسلامیہ سے خارج ہوچکے ہیں"۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ داعش کے عناصر نے حرمت والی چیزوں ، دوسروں کے خون ، مال اور آبرو کو حلال کرلیا لہذا شرعی عدلیہ پر واجب ہے کہ وہ ان کے کفر پر نظر کریں اور اس حوالے سے شرعی بیان جاری کریں۔

ڈاکٹر احمد کریمہ کے مطابق "داعش نے اپنے لیے قتل کرنے ، جلانے ، ذبح کرنے ، لوٹ مار کرنے ، خواتین کی آبروریزی اور املاک عامہ کو تباہ کرنے کی کارروائیوں کو حلال جان لیا۔ فقہاء کا فیصلہ ہے کہ جو کوئی ان چیزوں کو جائز قرار دے گا وہ دین سے مرتد ہوگیا اور اسلام سے خارج ہوگیا۔ اس لیے کہ اس نے اللہ کے حکم کو رد کیا ہے۔ اسلام سختی کے ساتھ کسی بھی انسان کو جلانے ، غرق کرنے اور قیدیوں کو اذیت و نقصان پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ شریعت تو احسان کرنے پر زور دیتی ہے۔ بدر کے معرکے کے بعد تقریبا ہر جلیل القدر صحابی (رضی اللہ عنہ) کے پاس کفار قریش کا ایک قیدی ضرور تھا جس کو وہ کھانے پینے میں خود پر ترجیح دیتے تھے"۔

ڈاکٹر احمد کے مطابق وہ سرکاری طور پر الازہر کے بارے میں گفتگو کرنے یا اس کے موقف کا جواز پیش کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ لہذا اگر اس کی جانب سے داعش تنظیم کے ارکان کو کافر نہیں قرار دیا جاتا ہے تو یہ اس کے اپنے نظریات اور اختیارات ہیں۔ ڈاکٹر احمد کا کہنا ہے کہ داعش پر راہ زنوں کی شرائط کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ یہ لوگ تو تخت حکومت تک پہنچنے کے لیے لڑنے والے باغی اور سرکش ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت تمام انسانوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ ہم ان کو فلسطین کی خاطر لڑتا ہوا نہیں دیکھتے ہیں لہذا ان کو جہاد کے راستے ہی دور کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر احمد کریمہ نے واضح کیا کہ داعش قرآن کریم میں جہاد اور قتال سے متعلق آیات کی غلط تشریح اور تاویل کا سہارا لیتے ہیں۔ اسلام میں اصل چیز انسانی جان کی حفاظت ہے خواہ وہ مسلمان کی ہو یا غیرمسلم کی۔ تاہم داعشیوں نے قتل و غارت اور خون ریزی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے وہ سب اسلام کی بنیادی تعلیم کے صریح مخالف ہے۔ داعش تنظیم اپنی کارروائیوں کے جواز کے لیے خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب سے منکرین زکات کے خلاف تلوار اٹھانے کو پیش کرتے ہیں۔ یاد رکھیں خلیفہ اول کا عمل صحابہ کے اجماع سے تھا اور اس عمل کا شرعی جواز بھی تھا کیوں کہ اُس وقت اُن لوگوں نے زکات کا انکار کیا تھا جو اسلام کے ارکان میں سے ہے جب کہ داعش جن کے خلاف قتال کررہی ہے وہ نماز اور زکات سمیت اسلام کے کسی بھی رکن کا انکار نہیں کرتے ہیں لہذا یہ داعشی ارکان اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی تکفیر کی جائے۔

داعش تنظیم کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے بارے میں ڈاکٹر احمد کریمہ کا کہنا تھا کہ اس دہشت گرد تنظیم کا نشانہ بننے والے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث مبارک کے مصداق شہید ہیں جس کا مفہوم ہے کہ مال، گھروالوں، دین اور خون کے مقابل قتل ہونے والا شہید ہوتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ نظریاتی طور پر داعش تنظیم کا مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے.. ڈاکٹر احمد کریمہ کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس تنظیم کے لیے "دولہ اسلاميہ" کا لفظ استعمال کرنا ختم کرے اس لیے کہ یہ چیز اسلام کی قدر کم کرتی ہے اور دہشت گردی کو اس سے نتھی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غلط مفہوم کی تصحیح کرنے ، ان عناصر کی سوچ کے ڈانڈوں کو ختم کرنے اور نظریاتی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر احمد کے مطابق انہوں نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے اعلانیہ مناظرے کا مطالبہ کیا تھا تاہم ان کی دعوت کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ڈاکٹر احمد نے نے داعش کے باطل نظریات کے رد کے لیے ایک کتاب بھی لکھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں