سعودی عرب: ماں کے قاتل "جُڑواں داعشیوں"سے متعلق نئے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی سیکورٹی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں سعودی خاتون کو قتل کرنے والے اس کے دونوں جڑواں بیٹوں صالح اور خالد کے ساتھ ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ 16 جون کو ریاض کے مشرقی علاقے الحمراء کے ایک گھر میں پیش آنے والے اندوہ ناک واقعے میں داعشی بھائیوں نے اپنی 67 سالہ ماں "ہیلہ العرینی" پر چاقو کے وار کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد ماں کے گلے پر چھری بھی چلائی جس کے نتیجے میں وہ فوری طور پر دم توڑ گئی۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق مجرم اپنی ماں کو کھینچ کر اسٹور روم میں لے گئے اور پھر وہاں اس کو قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد دونوں نے اپنے 73 سالہ والد کا رخ کیا اور متعدد وار کر کے ان کو بھی زخمی کر دیا اور پھر اسی طرح اپنے 22 سالہ بھائی سلیمان کو پکڑ کر اس کو چھری کے واروں کا نشانہ بنایا۔ دنوں مجرموں نے اپنی وحشیانہ کارروائی میں تیز چُھروں اور چاقوؤں کا استعمال کیا جو وہ گھر سے باہر سے لے کر آئے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے دونوں جڑواں بھائیوں نے تکفیری سوچ اپنانے کے بعد اپنے والدین اور بھائی کو حملے کا نشانہ بنایا۔

واقعے کے وقت گھر میں صالح اور خالد کی 29 سالہ بہن ایمان بھی موجود تھی تاہم خوش قسمتی سے وہ اپنے بھائیوں کا شکار بننے سے محفوظ رہی۔ مشیت الہی سے اس نے اپنے کمرے کے دروازے پر ہونے والی دستک کا جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں وہ کمرے سے نکلی تو اسے گھر کے تمام حصوں میں انسانی خون نظر آیا۔

دونوں جڑواں بھائیوں کی شدت پسندی نے راتوں رات جنم نہیں لیا بلکہ اس کے پروان چڑھنے میں 3 سال کا عرصہ لگا۔ اس دوران دونوں بھائوں نے اسکول چھوڑا اور اعلی ثانوی مرحلے کی تعلیم مکمل نہیں کی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق جڑواں بھائی زیادہ تر وقت گھر پر رہنے لگے، جس کے نتیجے میں انہوں نے کچھ وقت اپنی والدہ کے ساتھ گزانا شروع کر دیا۔ اس دوران دونوں بھائیوں کی جانب سے اُن امور پر مذمت اور نصیحت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا جن کو وہ "شریعت کے خلاف" شمار کرتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں