شام: النصرۃ محاذ نے 14 سرکاری فوجیوں کو قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے گرفتار ہونے والے چودہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

النصرۃ محاذ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان چودہ افراد کو اپنے نام پکارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ان میں بیشتر زخمی ہیں اور بعض کی آنکھیں سیاہ ہوچکی ہیں۔انھیں جوڑے جوڑے کی شکل میں النصرۃ کے ایک جھنڈے کے سامنے کھڑا کیا گیا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ عبارت میں کہا گیا ہے کہ ''شامی حکومت کے قیدیوں کے خلاف سزائے موت کا نفاذ کیا جارہا ہے کیونکہ انھوں نے وادی بردہ میں ایک گاؤں ہریرہ پر حملہ کیا تھا''۔پھر ان تمام افراد کو بیک وقت سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے۔

وادی بردہ کا علاقہ صوبہ دمشق میں واقع ہے اور اس پر النصرۃ محاذ سمیت حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کا کنٹرول ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ النصرۃ محاذ نے شامی فوجیوں کے ہریرہ میں داخل ہونے کی صورت میں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکی دی تھی۔

انھوں نے اس سے پہلے جاری کردہ ایک ویڈیو میں یہ دھمکی دی تھی اور اس میں نمودار ہونے والے ایک گرفتار شخص نے خبردار کیا تھا کہ اگر سرکاری فوج نے حملہ کیا تو النصرۃ کے جنگجو چودہ زیرحراست افراد کو قتل کردیں گے۔

النصرۃ محاذ میں زیادہ تر شامی جنگجو ہی شامل ہیں اور یہ شام میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد سے القاعدہ سے وابستہ ہے۔اس کے جنگجو شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اتحادی ملیشیاؤں کے گرفتار کیے جانے والے ارکان کو ماضی میں بھی اسی انداز میں ہلاک کر چکے ہیں۔اس گروپ کے جنگجوؤں نے ستمبر 2015ء میں صوبہ ادلب میں ایک فوجی اڈے پر حکومت کے اتحادی 56 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں