ایران میں "القاعدہ" کے 3 رہ نماؤں پر امریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی حکومت نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ایران میں مقیم 3 رہ نماؤں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کے روز امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ تین رہ نما "فيصل جاسم محمد العمری الخالدی ، يزرا محمد ابراهيم بيومی اور ابو بكر محمد محمد غمين" ہیں۔

بیان کے مطابق ان افراد مشرق وسطی میں القاعدہ کے زیرانتظام مالی رقوم کی منتقلی اور شدت پسندوں کی جنوبی ایشیا کے ملکوں سے مشرق وسطی نقل حرکت کی نگرانی کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں میں امریکی اراضی میں مذکورہ افراد کے ممکنہ اثاثے منجمد کرنا اور امریکی شہریوں کے ان افراد کے ساتھ معاملات کو ممنوع قرار دینا شامل ہیں۔

فیصل الخالدی القاعدہ میں کا ایک اعلی ذمہ دار رہا ہے ، وہ تنظیم کے ایک بریگیڈ کا امیر بھی تھا۔ علاوہ ازیں القاعدہ کی مجلس شوری اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان تعلق کا ذریعہ بھی بنا۔

یزرا بیومی 2006 سے القاعدہ تنظیم کارکن ہے۔ وہ 2014 سے ایران میں سکونت پذیر ہے۔ امریکی بیان کے مطابق 2015 کے وسط سے بیومی کا ایران میں القاعدہ کے ارکان کی رہائی میں کردار رہا ہے۔ 2015 کے آغاز میں وہ ایرانی حکام کے ساتھ وساطت کار کی حیثیت سے کارم کررہا تھا۔ اس سے ایک سال قبل اس نے القاعدہ کے لیے عطیات جمع کیے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیومی نے یہ رقوم "النصرہ فرنٹ" کو بھیجی تھیں جو شام میں "القاعدہ" تنظیم کی شاخ ہے۔

ابوبکر غمین ایران میں موجود القاعدہ کے عناصر کو مالی رقوم کی فراہمی اور ان کے انتظامی امور کا ذمہ دار ہے۔ امریکی بیان کے مطابق پاکستان کے علاقے وزیرستان سے ایران منتقل ہونے سے قبل وہ القاعدہ کے انٹیلجنس ونگ میں کام کرتا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب القاعدہ تنظیم کے ایرانی نظام کے ساتھ تعلق کی بات کی گئی ہے۔ امریکا کی قومی انٹیلجنس کے بیورو کی جانب سے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے منسوب جو خطوط (امریکا کے دعوے کے مطابق یہ خطوط مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ سے ملے تھے) جاری کیے گئے ان میں القاعدہ اور ایران کے درمیان پرانے اور مسلسل تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔

بہت سے عدالتی دستاویزات سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ ایران نے نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا اور ہزاروں امریکیوں کی ہلاکتوں کا ذریعہ بننے والے 11 ستمبر کے حملوں میں ، ایران اور خطے میں حزب اللہ سمیت اس کے ایجنٹ ملوث ہیں۔

مذکورہ عدالتی دستاویزات یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ایران نے "القاعدہ" کے ایجنٹوں کو افغانستان میں تربیتی کیمپوں تک منتقل کرنے میں سہولت کاری انجام دی تھی ، یہ امر 11 ستمبر کے حملوں کی کارروائی پر عمل درامد میں ایک مؤثر عامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں