.

سعودی وزیرخارجہ کا ایرانی قونصل جنرل کے الزامات کا منہ توڑ جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کے ایک قونصل جنرل کی جانب سے سعودی عرب پر دہشت گردی کی پشت پناہی سے متعلق عاید کردہ الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایرانی مندوب کا منہ بند کرا دیا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے حال ہی میں بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں قائم ایگمونٹ ریسرچ سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل کی زہر افشانی کا پورے دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہوئے انہیں چب کرا دیا۔

ایرانی مندوب نے الزام عاید کیا کہ سعودی عرب خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ القاعدہ کا سعودی عرب کے ساتھ گہرا تعلق ہے کیونکہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں حملے کرنے والے انیس دہشت گردوں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ اسی طرح نائن الیون کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن ایک سعودی شہری تھا۔

ایرانی مندوب نے یورپی یونین اور امریکا کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ نائن الیون کے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے بارے میں خود یورپ اور امریکا کے بیانات میں بھی تضادات موجود ہیں۔ امریکا اور یورپ کی جانب سے شام کے تنازع کے حل کے لیے ایران کو اہمیت دینا اس بات کا مظہر ہے کہ عالمی سطح پر شام کے بحران کے حل کے لیے ایران کا کلیدی کردار عالمی سطح پر مسلمہ ہے۔

ایرانی مندوب کے الزامات کے جواب میں تقریر کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے پورے دلائل اور براھین کے ساتھ ان کے الزمات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ بتایا کہ ایران کس طرح دہشت گردوں کی پشت پناہی کا مرتکب ہے۔

عادل الجبیر نے استفسار کیا کہ کیا ایرانی دستور انقلاب برآمد کرنے کی حمایت نہیں کرتا؟ کیا ایرانی آئین شیعہ ازم کے فروغ کا پرچارک نہیں ہے۔ کیا تہران نے حزب اللہ قائم نہیں کی۔ کیا ایران نے اپنے ہاں 12 ملکوں کے سفارت خانوں پر یلغار نہیں کی۔ کیا ایران نے سنہ 1996ء میں الخبر شہر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ نہیں کیا؟ جی ہاں یہ سب کچھ ایرانی ایجنٹوں ہی کا کارنامہ ہے۔ الخبر شہر میں امریکی فوجی افسران پر حملوں میں بحرین میں تعینات ایران کے ملٹری اتاشی میجر جنرل شریفی کے احکامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے لبنان کی وادی بقاء سے دھماکہ خیز مواد اور لبنانی حزب اللہ کے ایجنٹ امریکی فوجی اڈے پر حملے کے لیے پہنچائے تھے۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ کیا ایران نے الخبر شہر میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو سرکاری سرپرستی میں پناہ نہیں دی۔ ان میں سے ایک مجرم کوہم نے ایک سال قبل لبنان سے گرفتار کیا۔ اس کے پاس سعودی نہیں بلکہ ایرانی پاسپورٹ تھا۔ سنہ 2003ء میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تین رہائشی مقامات پر دہشت گردی میں بھی ایران ہی ملوث پایا گیا۔ اس لیے کہ ریاض حملوں کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کمانڈر سیف العدل ایران میں بیٹھ کر دہشت گردوں کو کنٹرول کر رہا تھا۔

سعودی وزیر خارجہ نے ایرانی مندوب کی آنکھیں کھولتے ہوئے کہا کہ ایرانی رجیم 35 برسوں سے ہمارے سفارت کاروں، سفارتی عملے اور دیگر شہریوں پر حملے کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز نے ایران سے بھیجے گئے کئی ایجنٹوں کو حراست میں لیا۔ ایران نے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے اسلحہ سے بھری چار کینٹینر روانہ کیے مگر ہم نے تہران کی اس سازش کو ناکام بنایا۔ ایران نے کویت، بحرین، سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں میں دہشت گردی کی سازشیں تیار کیں۔