.

شام اور عراق میں "چینی داعشی" کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد تنظیم داعش کی غیرملکی جنگجوؤں کو کھینچ لانے اور بھرتی کرنے کی صلاحیت کے ڈرامائی طور پر پروان چڑھنے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اسی حوالے سے امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے چینی داعشیوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں نام نہاد "سرزمین خلافت" میں ان کی زندگی کی تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ شام اور عراق میں "داعش" تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے والے چینیوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار میں کافی فرق پایا جاتا ہے تاہم چینی میڈیا نے شدت پسند تنظیم میں تقریبا 300 چینی شہریوں کے شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد صرف 118 جنگجوؤں سے زیادہ نہیں۔

رپورٹ میں "چینی داعشی جنگجوؤں" کے اپنے ساتھی غیرملکی جنگجوؤں سے مختلف ہونے پر تفصیل سے نظر ڈالی گئی ہے۔ ساتھ اس بات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے اویغور کی مسلم اقلیت کے خلاف اپنائی جانے والی پالیسی ، ان جنگجوؤں کو شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کا بنیادی سبب ہوسکتی ہے۔

ہوش اُڑا دینے والے اعداد و شمار

رواں سال افشا ہونے والی داعش تنظیم کی خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں کی اوسط عمر 26 سے 27 برس کے درمیان ہے۔ غیرملکی جنجگوؤں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے لیے تنظیم نے 2013 کے وسط سے لے کر 2014 کے وسط تک جنگجوؤں سے متعلق تفصیلات کا اندراج کیا تھا۔ اس ریکارڈ کے مطابق جنگجوؤں میں اکثر کا سن پیدائش 1987 ہے۔ تقریبا 59% جنگجو غیر شادی شدہ ہیں جب کہ 23% اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر آئے۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا 32% جنجگوؤں نے اعلی ثانوی مرحلے تک یا اس کے مساوی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور ان میں اکثریت نے داعش تنظیم میں شمولیت سے قبل کم از کم 3 ملکوں کا سفر کیا ہوا تھا۔

شادی اور استحکام کو ترجیح !

"چینی داعشیوں" سے متعلق رپورٹ میں دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ ان کا طرز زندگی شدت پسند تنظیم کے بقیہ جنگجوؤں سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ میں چین کے 118 جنگجوؤں کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان میں 114 چینی سنکیانگ کے علاقے سے آئے ہیں جہاں اویغور مسلم کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔ دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے علاقوں کو ترکستان اور مشرقی ترکستان کا نام دیتے ہیں جو کہ اپنے علاقے کی جانب اشارہ ہے جب اس نے 1930 – 1940 کے درمیان خودمختاری حاصل کی تھی۔

اس وقت یہ علاقہ "سنکیانگ ریجن" کہلاتا ہے۔ اس کے شمال مغرب میں تین مسلم ریاستیں قازقستان، کرغستان اور تاجکستان واقع ہیں۔ جنوب میں افغانستان اور پاکستان جب کہ مشرق میں چینی صوبہ تبت ہے۔

دیگر جنگجوؤں کے مقابلے میں بھرتی ہونے والے چینی "داعشی" شادی اور خاندان کی تشکیل کو ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جنگجوؤں کی عمریں 10 سے 80 برس کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ ان چینی جنگجوؤں میں 70% نے ماضی میں کبھی سنکیانگ سے باہر باہر کا سفر نہیں کیا تھا اور انہوں نے براہ راست داعش کا رخ کیا۔ یہ لوگ اعلی تعلیم اور پیشہ وارانہ مہارت کے بھی حامل نہیں ہیں۔

سنکیانگ کا علاقہ جہاں ترک زبان بولی جاتی ہے ہمیشہ سے چینی حکام کے ساتھ تنازع میں رہا جنہوں نے یہاں کی مسلم کمیونٹی کو کمزور کرنے پر ہی کام کیا۔ حالیہ برسوں میں ہان نسل کے چینی باشندوں نے بڑی تعداد میں "سنکیانگ" ریجن کی طرف ہجرت کی۔ بالخصوص 2009 اور 2014 میں ہونے والے ہنگاموں اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد جن کی وجہ سے سیکڑوں افراد اپنی جانوں اور گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ داعش کے زیرکنٹرول علاقوں میں چینی داعشیوں کی اکثریت ،جون 2014 میں عراق کے شہر موصل پر داعش کے قبضے کے بعد پہنچی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ تنظیم میں شمولیت سے قبل "ریاست کے قیام" کے منتظر تھے۔

رپورٹ میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بیجنگ کی پالیسیاں وہ مرکزی عامل ہوسکتا ہے جس نے "اویغور" اقلیت کے جنگجوؤں کو شدت پسند تنظیموں میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ چینی حکومت اس مسلم اقلیت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ شمار کرتی ہے۔

اس مقام پر متعدد اکیڈمکس اعتراف کرتے ہیں کہ "سنکیانگ" صوبہ حالیہ دہائیوں میں مذہبی طور پر سب سے زیادہ سخت گیر بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس ریجن سے تعلق رکھنے والے بعض نوجوان ، 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد امریکا کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد گوانتانامو کے قید خانے میں ہیں۔