امن معاہدے کے لیے 15 روز ناکافی ہیں : یمنی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کویت میں جاری یمنی امن مشاورت میں شریک حکومتی وفد کا کہنا ہے کہ باغیوں کے وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پندرہ روز کے اندر امن کا حتمی معاہدہ طے پانا خارج از امکان ہے۔

یہ بات یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے کویت کے اخبار الرای سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ المخلافی (جو موریتانیہ میں عرب سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے کویت سے کوچ کر گئے ہیں) کے مطابق "اگر حوثیوں نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا تو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد احمد کی جانب سے کی جانے والی مشاورت کے معطل ہوجانے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ حوثیوں کا لڑائی کی کارروائیاں مکمل طور پر روک دینے ، امن اور تعاون کی کمیٹی کے علاوہ مقامی کمیٹیوں کو فعال بنانے ، انخلاء کی نگرانی کرنے والی عسکری کمیٹیوں کی تشکیل ، ہتھیار حوالے کرنے ، انسانی امدادات کے پہنچنے کے لیے پرامن گزرگاہوں کو کھولنے اور قیدیوں اور گرفتار شدگان سے متعلق کمیٹی کے کام کو سپورٹ کرنے پر آمادہ ہونا لازمی امر ہے۔

بات چیت میں شریک ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغیوں کے وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے جمعرات کے روز ہونے والے انفرادی اجلاس میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسماعيل ولد الشيخ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عبدالسلام نے ولد الشیخ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے اور کویت کی جانب سے پندہ روز کی مہلت کے اعلان کا ذمہ دار ولد الشیخ کو ٹھہرایا۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ حوثیوں کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے ایلچی پر سرکاری وفد کے حق میں جانب داری اور اپنی ذمہ داری میں خیانت کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔

علاوہ ازیں جمعے کے روز بھی اسماعیل ولد الشیخ کی جانب سے باغیوں کے وفد کے ارکان کے ساتھ منعقد کیے جانے والے دوسرے انفرادی اجلاس میں بھی کشیدگی کی فضا چھائی رہی۔ اجلاس کا مقصد باغیوں کو سنجیدہ مشاورت میں داخل ہونے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں