ایران میں پناہ حاصل کرنے والے القاعدہ رہ نما ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایران میں مقیم القاعدہ تنظیم کے 3 رہ نماؤں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے فیصلے نے ، ایک مرتبہ پھر تہران اور مذکورہ دہشت گرد تنظیم کے تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب القاعدہ تنظیم کے ایرانی نظام کے ساتھ تعلق کی بات کی گئی ہے۔ امریکا کی قومی انٹیلجنس کے ڈائریکٹر کے بیورو کی جانب سے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے منسوب جو خطوط (امریکا کے دعوے کے مطابق یہ خطوط مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ سے ملے تھے) جاری کیے گئے ان میں القاعدہ اور ایران کے درمیان پرانے اور مسلسل تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔

امریکی بیان کے مطابق پابندی کا شکار ہونے والی شخصیات نے مشرق وسطی میں القاعدہ کے زیرانتظام مالی رقوم کی منتقلی اور شدت پسندوں کی جنوبی ایشیا کے ملکوں سے مشرق وسطی نقل حرکت کی نگرانی کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں میں امریکی اراضی میں مذکورہ افراد کے ممکنہ اثاثے منجمد کرنا اور امریکی شہریوں کے ان افراد کے ساتھ معاملات کو ممنوع قرار دینا شامل ہیں۔

فیصل الخالدی القاعدہ میں کا ایک اعلی ذمہ دار رہا ہے ، وہ تنظیم کے ایک بریگیڈ کا امیر بھی تھا۔ علاوہ ازیں القاعدہ کی مجلس شوری اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان تعلق کا ذریعہ بھی بنا۔

یزرا بیومی 2006 سے القاعدہ تنظیم کارکن ہے۔ وہ 2014 سے ایران میں سکونت پذیر ہے۔ امریکی بیان کے مطابق 2015 کے وسط سے بیومی کا ایران میں القاعدہ کے ارکان کی رہائی میں کردار رہا ہے۔ 2015 کے آغاز میں وہ ایرانی حکام کے ساتھ وساطت کار کی حیثیت سے کارم کررہا تھا۔ اس سے ایک سال قبل اس نے القاعدہ کے لیے عطیات جمع کیے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیومی نے یہ رقوم "النصرہ فرنٹ" کو بھیجی تھیں جو شام میں "القاعدہ" تنظیم کی شاخ ہے۔

ابوبکر غمین ایران میں موجود القاعدہ کے عناصر کو مالی رقوم کی فراہمی اور ان کے انتظامی امور کا ذمہ دار ہے۔ امریکی بیان کے مطابق پاکستان کے علاقے وزیرستان سے ایران منتقل ہونے سے قبل وہ القاعدہ کے انٹیلجنس ونگ میں کام کرتا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ برس سال 2008ء کی ایک خفیہ دستاویز شائع کی تھی جس میں امریکی انٹیلجنس کے سابق اور موجودہ ذمہ داران کے ساتھ ہونے والی خصوصی گفتگو سے جمع کی جانے والی معلومات کا انکشاف کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق القاعدہ تنظیم کی بعض شخصیات جو مستعار نام رکھتی ہیں ، اُن کو ایرانی نظام کے زیر انتظام شخصیات کے ضمن میں شامل کر لیا گیا۔ بالخصوص 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد ، القاعدہ کے درجنوں جنگجوؤں کے ایران فرار ہونے کے بعد۔

ابو حفص الموريتانی : 2012 میں موریتانیا واپس چلا گیا تھا۔ وہ بن لادن کا مذہبی امور سے متعلق مشیر تھا اور اب ایران میں القاعدہ تنظیم کا اسلامی شریعت کے امور کا ماہر ہے۔ اس کا اصلی نام محفوظ ولد الوليد ہے۔

ابو الخیر المصری : القاعدہ تنظیم کی مجلس عاملہ کا سربراہ اور تنظیم کے خارجہ تعلقات کا ذمہ دار رہ چکا ہے۔

سيف العدل : القاعدہ کی مجلس عاملہ کا رکن ، دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں شریک اور تنظیم کے لیے پروپیگنڈے کا ماہر ہے۔

ابو محمد المصری : القاعدہ تنظیم کی مجلس عاملہ کا رکن اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار کا حامل ہے۔ تنظیم کے ارکان کی تربیت کا سابق سربراہ تھا۔

سليمان ابو غيث : القاعدہ تنظیم کی مجلس عاملہ کا رکن ہے۔ گرفتاری اور امریکا میں زیرحراست ہونے سے قبل تنظیم کا سرکاری ترجمان تھا۔

ابو الليث الليبی : وہ علی عمار عاشور الرفاعی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ امریکی ڈرون طیارے کے حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔ وہ مشرقی افغانستان کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں سرگرم تھا جہاں اس نے بڑے اختیارات کے ساتھ اپنی حکمرانی چلائی۔

عبد العزيز المصری : وہ علی سید محمد مصطفى البكری کےنام سے بھی جانا جاتا ہے۔ القاعدہ تنظیم میں فعال طریقے سے شریک رہا ہے۔ دھماکا خیز مواد اور آلات کے علاوہ زہر تیار کرنے کا ماہر ہے۔ المصری کے سيف العدل اور خالد شيخ محمد کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں۔

ابو دجانہ المصری : گرفتاری سے قبل دھماکوں کی کارروائی کے تربیت کار کے طور پر کام کرچکا ہے۔ وہ مصری تنظیم حرکت جہاد اسلامی کا رکن اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا داماد ہے۔

محمد احمد شوقی الاسلامبولی : القاعدہ کی کارروائیوں اور مشنوں کے سلسلے میں سہولت کار کی ذمہ داری انجام دے چکا ہے۔ وہ مصری اسلام پسند جماعتوں کا نمایاں رکن ہے۔ ماضی میں ایرانی انٹیلجنس کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے۔ وہ سابق مصری صدر انور سادات کے قاتل خالد الاسلامبولی کا بھائی ہے۔

ثروت شحاتہ : وہ ایمن الظواہری کا سابق نائب اور کارروائیوں کا منصوبہ بندی کا ماہر ہے۔ ایران جانے سے قبل اس کے القاعدہ کی قیادت اور ابو مصعب الزرقاوی کے ساتھ بہت احترام کا تعلق تھا۔

علی مجاہد : اس کی ذمہ داریوں میں دھماکا خیز مواد کی فراہمی اور بھرتی ہونے والے افراد کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی تربیت دینا ، اعلی سطح کی سخت گیر شخصیات کی ایران سے عراق منتقلی کو آسان بنانا شامل ہیں۔ رپورٹوں میں مشتبہ طور پر اسے دسمبر 2005 میں نیویارک میں میٹرو اسٹیشن پر دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

ابو انس الليبی : القاعدہ تنظیم کا نمایاں رکن ہے۔ گرفتاری اور امریکا میں حراست سے قبل لیبیا میں لڑنے والے بریگیڈز کا بھی رکن رہا۔ 1998 میں مشرقی افریقہ میں ہونے والے دھماکوں سے بھی اس کا مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے۔

ابو الضحاک : وہ علی صالح حسين التبوکی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ افغانستان میں چیچن جنگجوؤں کے نمائندے کے طور پر کام کرچکا ہے۔

خالد السودانی : القاعدہ تنظیم کی مجلس شوری کا رکن ہے۔ خیال ہے کہ وہ اس وقت اردن ، پاکستان یا ایران میں کسی جگہ موجود ہے۔

قاسم السوری : وہ عز الدين القسام السوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ وزیرستان ، پاکستان اور عراق میں القاعدہ کی قیادت کے درمیان رابطے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ذمہ داریوں میں یورپ میں القاعدہ تنظیم کے متعدد ذیلی گروپوں کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

ابو طلحہ حمزہ البلوشی : اس کی ذمہ داری ایران میں تنظیم کو مطلوب ہر قسم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

جعفر الاوزبكی : ایران میں القاعدہ کے ارکان کی رہائی سے متعلق مذاکرات کے لیے تنظیم کی اعلی قیادت کی نمائندگی کرچکا ہے۔

اس فہرست میں دو نمایاں ناموں کا مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔ ان میں پہلا تو دہشت گرد تنظیم خراسان کا بانی محسن الفضلی ہے جو گزشتہ برس ایک فضائی حملے میں مارا گیا۔ دوسرا شخص عبداللہ عزام بریگیڈز کا امیر ماجد الماجد ہے۔ اس نے ایران میں تربیت حاصل کی اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے سعودی باشندوں کی بھرتی میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے۔

ایران میں اسامہ بن لادن کے گھرانے سے تعلق رکھنے والی جو شخصیات موجود تھیں ان میں اس کے بیٹے سعد ، محمد اور حمزہ اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں