اسامہ بن لادن کے ایران کے ساتھ تعلق کے خفیہ پہلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر حملے کے دوران ہاتھ آنے والے خطوط کی دوسری کھیپ سے القاعدہ تنظیم اور ایران کے درمیان جاری پرانے تعلق کا انکشاف ہوا۔ ان خطوط کو امریکی قومی انٹیلجنس ڈائریکٹر کے بیورو نے جاری کیا تھا۔

سال 2007 کے ایک خط میں بن لادن نے اُن جواز کا ذکر کیا تھا جن کے موجب ایران پر حملے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ خط میں کہا گیا کہ " ایران ہماری شہہ رگ ہے جو ہمیں مالی رقوم ، افرادی قوت اور رابطے کے ذرائع فراہم کرتا ہے۔ انتہائی مجبوری کے سوا ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی موجب نظر نہیں آتا"۔

بن لادن نے اپنی تنظیم کے ارکان پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی مقابلے کی صورت میں پہلے مشورہ یا اجازت طلب کی جائے۔

مارچ میں نیویارک کی وفاقی عدالت کے جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ایران کو حکم دیا تھا کہ وہ 11 ستمبر کے حملوں میں مارے جانے والے امریکیوں کے اہل خانہ اور مالی نقصان اٹھانے والی انشورنس کمپنیوں کو بطور ہرجانہ اربوں ڈالر ادا کرے۔ اس لیے کہ ایران نے نیویارک اور واشنگٹن کو نشانہ بنانے والی ان دہشت گرد کارروائیوں میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔

عدالت کے جج نے مقدمے میں جن عدالتی دستاویزات کو بنیاد بنایا تھا ان کی تعداد چھ ہے۔ عربی اخبار الشرق الاوسط کی جانب سے شائع کیے جانے والے ان دستاویزات میں قطعی دلیل کے ساتھ اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ ایران نے القاعدہ کے ایجنٹوں کو افغانستان میں تربیتی کیمپوں تک پہنچانے میں سہولیات پیش کیں جو کہ 11 ستمبر کے حملوں پر عمل درامد کرنے کے لیے ضروری تھا۔

دستاویزات کے مطابق حزب اللہ کے ایک کمانڈر عماد مغنیہ نے اکتوبر 2000 میں حملہ آوروں سے ملاقات کی اور نئے پاسپورٹوں کے ساتھ ان لوگوں کے ایران سفر کے انتظامات کیے۔ دستاویزات نے یہ بات بھی ثابت کی کہ ایرانی حکومت نے اپنے سرحدی نگرانوں کو حکم جاری کیا تھا کہ ان حملہ آوروں کے پاسپورٹوں پر ظاہری مہریں نہ لگائیں تاکہ ان کو آمد و رفت میں آسانی رہے۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے 11 ستمبر کے واقعات کے بعد بھی القاعدہ کے لیے مادی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھا اور تنظیم کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہ پیش کی۔

دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 1993 میں خرطوم میں ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن ، موجودہ سربراہ ایمن الظواہری ، حزب اللہ کمانڈر عماد مغنیہ اور ایرانی ذمہ داران نے شرکت کی تاکہ مشترکہ تعاون کے لیے اتحاد کیا جاسکے۔

دفاع ، خطرات اور امن و امان سے متعلق مشاورت کے ادارے HIS کی جانب سے ایک مقالہ شائع کیا گیا جس کا عنوان تھا "خارج از امکان اتحاد : ایران کا القاعدہ کے ساتھ خفیہ تعلق"۔ اس مضمون میں ایران اور القاعدہ تنظیم کے درمیان تعلق ، اس میں پیش رفت کے علاوہ تعاون اور تصادم کے پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مضمون نگار کے مطابق ایران دیگر دہشت گرد جماعتوں (جن کو وہ مادی ، عسکری اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا ہے) کے برعکس القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلق کو بڑی حد تک پوشیدہ رکھتا ہے۔

مضمون نگار کے نزدیک ایران سنی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنے مفادات کو یقینی بنانے کے لیے نظریاتی اختلافات کو ختم کرنے میں ہمیشہ سے ناکام رہا ہے۔ ان تنظیموں میں حماس اور القاعدہ نمایاں ترین ہیں۔ القاعدہ کے لیے یہ ایرانی سپورٹ تنظیم کے بعض کارکنان کو تربیت دینے ، 11 ستمبر سے قبل اور بعد القاعدہ کے عناصر کو ایران کے راستے افغانستان آنے جانے کی سہولت فراہم کرنے اور القاعدہ کی قیادت کو ایران میں رہنے کی اجازت دینے کی صورت میں سامنے آئی۔ القاعدہ کے لیے سپورٹ کے پیچھے موجود ایرانی مفادات کا خلاصہ ، درج ذیل تین بنیادی نقاط میں بیان کیا جاسکتا ہے :

پہلا : ایران میں القاعدہ کے ارکان کا ہونا ایران کو بالخصوص امریکا کے ساتھ تعلقات میں سودے بازی کی طاقت دیتا ہے۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی صورت میں ایران مطلوبہ حکمت عملی کی روشنی میں ان ارکان کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

دوسرا : ایران بعض ممالک سے تعلقات کشیدہ ہونے کی صورت میں ان ممالک کے خلاف کارروائیوں میں القاعدہ کے ساتھ تعلق کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان ممالک میں سرفہرست سعودی عرب ہے۔

تیسرا : القاعدہ کو لاجسٹک سپورٹ اور اس کے ارکان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے ، ایران اپنی اراضی کو القاعدہ تنظیم کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ مضمون نگار نے اس حوالے سے ایک دلیل پیش کرتے ہوئے الظواہری کی جانب سے ابو مصعب الزرقاوی کو بھیجے گئے ایک خط کا حوالہ دیا ہے۔ الزرقاوی جو اس وقت عراق میں القاعدہ کا کمانڈر تھا ، اس سے مطالبہ کیا گیا کہ ایرانی نظام کی گرفت میں القاعدہ کے 100 سے زیادہ ارکان کی موجودگی کے پیش نظر ، شیعہ اور ایرانیوں کو نشانہ بنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں