فلسطینی "دوابشہ" خاندان کا بچ جانے والا بچہ خالی گھر واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی کنارے میں فلسطینی بچہ احمد دوابشہ نابلس شہر کے جنوب میں واقع اپنے گاؤں دوما واپس آ گیا ہے۔ احمد جس ہسپتال میں زیرعلاج تھا وہاں کے ڈاکٹروں کے مطابق اسے مستقل طور پر ہسپتال میں رہنے کی ضرورت نہیں۔

تقریبا ایک سال قبل ایک دہشت گرد یہودی جماعت نے دوابشہ خاندان کے ایک گھرانے کو ان کے گھر سمیت آگ لگا دی تھی۔ حادثے میں صرف احمد زندہ رہا جب کہ اس کے والدین اور ایک شیر خوار بھائی جاں بحق ہو گئے تھے۔

احمد دوابشہ کی دادی ام نصر کا کہنا ہے کہ "میں بہت خوش ہوں کہ احمد میرے پاس ہے۔ وہ اپنے باپ کا نعم البدل ہے"۔

احمد دوابشہ کا کہنا ہے کہ "ہمارے گھر کو یہودی آبادکاروں نے آگ لگائی"۔

احمد کے پاس میڈیا کے کیمروں کے سامنے گزارنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا اور وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بچپن کی زندگی تلاش میں پھر سے نکل کھڑا ہوا۔

احمد کے چچا نصر دوابشہ کا کہنا ہے کہ "اس بچے کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں اور اس کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے"۔

احمد اپنے چچا کے ساتھ اپنا جلا ہوا گھر دیکھنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے فاتحہ پڑھنے کے لیے گیا۔ ایک سال قبل پیش آنے والے اس سنگین واقعے میں احمد بچ تو گیا تاہم وہ بری طرح جھلس گیا تھا۔ اس کو ابھی کئی پلاسٹک سرجریز اور علاج کے ایک لمبے سفر کی ضرورت ہے جس میں تقریبا 8 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں