.

مصر: الازہر نے مساجد میں تحریر شدہ خطبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں الازہر کے سینئر علماء کی کمیٹی نے متفقہ طور پر " تحریر شدہ خطبے کے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے جس کا فیصلہ مصری وزارت اوقاف کی جانب سے کیا گیا"۔ گزشتہ جمعے کے روز سے مذکورہ اقدام پر عمل درامد شروع ہو گیا ہے۔

شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی صدارت میں منگل کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کا کہنا ہے کہ مصری آئین کی جانب سے الازہر کو اسلامی دعوت کا ذمہ دار بنایا گیا ہے ، اس کردار کی روشنی میں علماء کمیٹی نے تحریری خطبے کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے نزدیک یہ اقدام مذہبی خطاب کو منجمد کرنے کے مترادف ہے۔

کمیٹی کے مطابق آئمہ مساجد کو سنجیدہ تربیت ، کتب اور کتب خانے فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ علم اور صحیح فکر کے ساتھ شدت پسند افکار کا مقابلہ کر سکیں۔ خطیب کے محض ایک تحریر شدہ کاغذ کا سہارا لینے کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد اس کی سوچ سپاٹ ہو جائے گی اور وہ منحرف افکار اور مذہب کو پردہ بنانے والی گمراہ جماعتوں کے رد کی قدرت کھودے گا۔ وہ جماعتیں جو قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی تحریف کر کے ان کو استعمال کرتی ہیں۔

سینئر علماء کمیٹی نے اسلامی فکری ثقافت کو گہرائی کے ساتھ پیش کرنے اور اس سلسلے میں تمام تر وسائل کو استعمال کرنے پر الازہر کو خراج تحسین پیش کیا۔

مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ کے فیصلے پر عمل درامد کرتے ہوئے مصری مساجد میں جمعے کے روز پہلا تحریر شدہ یکساں خطبہ دیا گیا۔

وزارت اوقاف نے ایک علمی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو زمانے کی روح کے موافق ایمانی ، اخلاقی ، انسانی اور حقیقی امور سے متعلق موضوعات پر جمعے کے خطبات تیار کرے گی۔