یمن:عوامی مزاحمت کاروں اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صوبے الجوف کے دو علاقوں المصلوب اور العقبہ میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حوثی کمانڈر مبخوت الحصان نے خود کو اپنے ساتھیوں سمیت عوامی مزاحمت کاروں کے حوالے کر دیا۔ ادھر اتحادی طیاروں نے ایک مرتبہ پھر الغیل گورنری میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور اسلحے کے ڈپوؤں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

دارالحکومت صنعاء کے شمال مشرق میں واقع نہم گورنری میں بھی ملیشیاؤں کی سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپیں جاری رہیں۔

عوامی مزاحمت کاروں اور سرکاری فوج نے تعز کے جبل صبر میں الصرارہ کے علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا۔ اس دوران تعز شہر کے مشرق اور شمال میں واقع ٹیلوں پر موجود ملیشیاؤں نے جبل صبر کے اطرف میں واقع دیہاتوں کو شدید طریقے سے راکٹوں اور گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح عوامی مزاحمت کاروں نے پہاڑ کی مشرقی سمت ملیشیاؤں کے ایک حملے کو پسپا کر دیا جہاں دو قصبوں الشقب اور بتع میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔

دوسری جانب عرب اتحادی طیاروں نے تعز صوبے کے مغرب میں واقع المخاء گورنری میں ساحلی دفاع کے عسکری کیمپ پر بمباری کی جہاں ملیشیاؤں کا قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ ذباب گورنری اور باب المندب کے شمال میں العمری کیمپ میں بھی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اتحادی طیاروں نے صنعاء کے مشرق میں واقع خولان گورنری میں بھی حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں، عسکری کُمک اور مجمعوں پر بمباری کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں