.

بشارالاسد کی ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کو عام معافی کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد آیندہ تین ماہ کے دوران ہتھیار ڈالنے اور خود کو حکام کے حوالے کرنے والے باغیوں کو عام معافی کی پیش کش کی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق معافی کی یہ پیش کش جمعرات کو جاری کردہ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے کی گئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کو رہا کردیا جائے۔فرمان کے مطابق جو باغی اپنے زیر حراست افراد کو رہا کردیں گے اور خود کو ایک ماہ میں حوالے کردیں گے،انھیں سزا سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔

شامی صدر کی جانب سے باغیوں کو معافی کی یہ پیش کش شمالی شہر حلب میں شامی فوج کی روس کی فضائیہ کی مدد سے باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کے تناظر میں کی گئی ہے۔شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی حصے کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔

شامی فوج نے اگلے روز مشرقی حلب میں مقیم شہریوں کو ٹیکسٹ پیغام بھیجے ہیں۔ان میں انھیں علاقے سے محفوظ انخلاء کی پیش کش کی ہے اور ان سے کہا ہے وہ ''شرپسندوں'' کو شہر سے نکال دیں اور جو کوئی بھی شہری علاقہ چھوڑنا چاہتا ہے ،اس کو محفوظ راستہ اور عارضی پناہ دی جائے گی۔واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے تحت میڈیا باغی جنگجوؤں کو شرپسند اور دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔