.

شام: النصرۃ محاذ نے القاعدہ سےناتا توڑ لیا،نیا نام جبھۃ فتح الشام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ آزما جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے القاعدہ سے ناتا توڑ لیا ہے اور اپنا نام بھی تبدیل کر کے جبھۃ فتح الشام رکھ لیا ہے۔

النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے جمعرات کو منظرعام پر آنے والے ایک بیان کے بعد یہ اعلان کیا ہے اور انھوں نے القاعدہ کے کمانڈروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے النصرۃ کے عالمی تنظیم سے تعلقات منقطع کرنے کی ضرورت کو سمجھا ہے۔انھوں نے کہا کہ اب تنظیم کا نیا نام جبھۃ الفتح الشام ہوگا۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے آج جاری کردہ ایک آڈیو بیان میں القاعدہ کی شامی شاخ سے کہا تھا کہ وہ اپنا اتحاد برقرار رکھنے اور شام میں اپنی لڑائی جاری رکھنے کے لیے عالمی جنگجو تنظیم سے اپنا تنظیمی تعلق توڑ سکتی ہے۔

القاعدہ کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی صورت میں النصرۃ محاذ کے لیے خلیجی ریاستوں اور خاص طور پر قطر کی جانب سے حمایت میں بھی اضافہ ہوگا اور اس کے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور داعش کے خلاف لڑنے والے دوسرے باغی گروپوں سے قریبی تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

القاعدہ کے سربراہ نے النصرۃ محاذ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ''اگر یہ تنظیمی اور جماعتی تعلقات آپ کے اتحاد اور ایک مٹھی ہو کر کام کرنے پر اثرانداز ہورہے ہیں تو آپ بلاتردد ان تعلقات کی قربانی دے سکتے ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا:''ہمارے درمیان اسلامی بھائی چارہ کسی تنظیمی وابستگی سے زیادہ مضبوط ہے۔آپ کا اتحاد اور یک جہتی ہمارے لیے تنظیمی تعلق سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے''۔

النصرۃ محاذ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں سب سے مضبوط گروپ رہا ہے۔امریکا نے اس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔فروری میں روس اور امریکا کے درمیان شام میں طے پانے والی جنگ بندی میں داعش کے علاوہ اس گروپ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں اور روس نے اس گروپ پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے النصرۃ محاذ کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت روس کے ساتھ قریبی تعاون کی تجویز بھی پیش کی تھی تاکہ اس گروپ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کو مربوط بنایا جاسکے۔

مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ایک ماہر چارلس لیسٹر نے القاعدہ اور النصرہ محاذ کے قائدین کی جانب سے اس اعلان سے قبل کہا تھا کہ شامی حزب اختلاف ہمیشہ سے النصرۃ محاذ پر القاعدہ سے ناتا توڑنے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی تھی مگر مغربی طاقتوں کے اس گروپ کے بارے میں مؤقف میں تبدیلی کا کم ہی امکان ہے۔

واضح رہے کہ شام کے شمالی صوبے ادلب پر النصرۃ محاذ کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا کنٹرول ہے۔ سخت گیر جنگجو گروپ احرار الشام بھی اس اتحاد میں شامل ہے۔النصرۃ محاذ کے جنگجو ماضی میں ادلب میں امریکا کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے ٹھکانے پر حملے کرتے رہے ہیں۔انھوں نے مارچ میں معرۃ النعمان شہر میں 13 ڈویژن کے ایک گودام کو لوٹ لیا تھا۔

یہ جہادی گروپ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار امریکا کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے خلاف بھی کارروائی کرتا رہتا ہے۔گذشتہ سال اس نے ایک باغی لیڈر جمال معروف کی قیادت میں شامی انقلابی محاذ کو شمالی شام میں شکست سے دوچار کرکے علاقے سے نکال باہر کیا تھا۔اس کے علاوہ امریکا کے حمایت یافتہ ایک اور باغی گروپ حزم تحریک کو بھی لڑائی میں شکست سے دوچار کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی النصرۃ محاذ پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں لیکن یہ تنظیم امریکا اور اس کے عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ شام کے باغی گروپوں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف جنگ میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔اس گروپ کے ذرائع نے ماضی میں بھی یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ اب القاعدہ سے اپنا ناتا توڑنے پر غور کررہے ہیں تاکہ انھیں شامی صدر کے مخالف خلیجی عرب ممالک کی زیادہ حمایت حاصل ہوسکے۔

 شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کی یکم اپریل 2016ء کو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تصویر ۔
شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کی یکم اپریل 2016ء کو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تصویر ۔