.

اسرائیل کا یہودی آباد کاری کا نیا منصوبہ اشتعال انگیزی ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کے یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے سیکڑوں نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے امکان پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں آج شائع ہونے والی رپورٹس پر گہری تشویش لاحق ہے جن میں اسرائیل کی جانب سے مشرقی القدس میں 323 یونٹوں (مکانوں) کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں۔قبل ازیں ایک یہودی بستی گیلو میں 770 یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا''۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ''اسرائیلی حکام کی جانب سے یہودی آبادکاری کی سرگرمی کو تیز رفتاری سے رو بہ عمل لانے کی یہ تازہ مثالیں ہیں۔اس سے بڑے منظم انداز میں دو ریاستی حل کے لیے امکانات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے''۔

''ہم اسرائیل کے اس اشتعال انگیز اور جوابی منفی اقدامات کے حامل انداز پر مشوش ہیں۔اس سے اسرائیل کے فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کے پُرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل سے متعلق عزم کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں''۔انھوں نے مزید کہا ہے۔

فلسطینی قیادت اور اقوام متحدہ نے قبل ازیں مشرقی بیت المقدس کے جنوب میں واقع یہودی بستی گیلو کی توسیع اور وہاں 770 نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی مذمت کی تھی۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ار امیم کے مطابق مکانوں کی یہ تعداد اسرائیل کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت تین سال قبل قریباً بارہ سو مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکا ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ پر مشتمل سفارتی گروپ چار نے حال ہی میں جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہودی بستیوں کی توسیع سے تنازعے کے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

جان کربی نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی تعمیرات کو ڈھانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں مکانوں کی مسماری سے بچوں سمیت سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں۔

امریکی ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''اس سال اب تک ساڑھے چھے سو سے زیادہ فلسطینی تعمیرات کو مسمار کیا جاچکا ہے۔2015ء کے دوران جتنے فلسطینی مکان مسمار کیے گئے تھے،اس سے زیادہ اس سال اب تک مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں ڈھائے جاچکے ہیں۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے اور مشرقی القدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں مشرقی القدس کو صہیونی ریاست کو ضم کر لیا تھا اور ان دونوں علاقوں میں یہودیوں کا بیرونی ممالک سے لاکر بسانا شروع کردیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

گروپ چار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل نے یہودی آباد کاری کو توسیع دینے ،یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو قانونی قرار دینے اور زمین ہتھیانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے،اس سے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ وہ مستقبل میں فلسطینیوں کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کی صورت میں غربِ اردن میں یہودی آباد کاروں کے بڑے بلاکوں کو اپنے پاس ہی رکھے گا لیکن فلسطینی اس کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی مجوزہ ریاست کے قیام میں رکاوٹیں حائل ہوں گی۔وہ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔بیت المقدس (یروشیلم) اس ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔