.

حلب سے شامیوں کے نکلنے کے لیے گزرگاہوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک اور شامی حکومت حلب میں انسان دوست کارروائی کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اور شامی حکومت شہریوں کی آمدورفت کے لیے 3 گزرگاہیں کھولیں گے۔ ان کے علاوہ ایک چوتھی گزرگاہ اپوزیشن گروپوں کے ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کے لیے بھی ہوگی۔

ایسا نظر آرہا ہے کہ روسی وزیر کا بیان حلب پر شدید بمباری کا مقدمہ ہے۔ اس لیے کہ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ "مسلح افراد" کے لیے گزرگاہ کا کھولا جانا.. امریکا کے عدم تعاون اور النصرہ فرنٹ اور شامی جیش حُر کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی کا نتیجہ ہے۔

شامی حکومت کی نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز شامی فوج کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس نے اپوزیشن کے جنگجوؤں کے زیرکنٹرول حلب کے مشرقی علاقے کی جانب کُمک کے تمام راستے کاٹ دیے ہیں۔

حکومت نے کئی روز سے حلب میں اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں تک جانے والا آخری راستہ بھی کاٹ دیا ہے جس کے نتیجے میں ان علاقوں کی تقریبا 2 لاکھ کی آبادی کو انسانی المیے سے دوچار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

کاسٹیلو کا راستہ منقطع کرنے کے بعد حکومت حلب میں اللیرمون کے علاقے کو واپس لینے میں کامیاب ہوگئی اور اسے بنو زید کے علاقے پر بمباری کی قدرت بھی حاصل ہوگئی۔

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق یہ دونوں علاقے اپوزیشن کی جانب سے راکٹ اور میزائلوں کے داغے جانے کی کارروائیاں روکے جانے کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔

مذکورہ علاقوں میں سرکاری فوج کی پیش قدمی کے نتیجے میں اپوزیشن کو 33 کارخانوں سے بھی محروم ہونا پڑا ہے جو حلب میں اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حلب کے مشرقی حصوں کے باسیوں کو حکومت کی جانب سے فون پر ٹیکسٹ پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں قومی مصالحت میں شامل ہونے پر زور دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ ہتھیار چھوڑ دینے کی صورت میں باہر نکلنے کے خواہش مند افراد محفوظ گذرگاہوں کو استعمال کرسکتے ہیں۔