.

رشتے داروں کے قتل کا داعشی فتوی یہ ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"رشتے داروں" کا گلا کاٹنے اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے ذریعے "جہاد".. یہ "تکفیری جماعتوں" اور "انقلابی جہاد" کے فتوؤں کے سلسلے کے ضمن میں کوئی نیا فتوی نہیں بلکہ یہ ابتدائی طور پر "القاعدہ" کے نظریہ کاروں کی تخلیق کردہ روش تھی جو بعد میں "الزرقاوی" کی تنظیم تک پہنچی اور آخر کار "داعش" اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی پہچان بن گئی۔

گزشتہ منگل کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کی عدالت نے "بریگیڈیئر جنرل ناصر العثمان" کے دو قاتلوں پر (ان میں ایک مقتول کا بھانجا ہے) رہ زنی (قتل اور لوٹ مار) کی حد قائم کرنے اور تیسرے ملزم کو تیس سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔

یہ کہانی تقریبا 10 سال پرانی ہے جب 2007ء میں سکیورٹی فورسرز کو بریدہ شہر میں بریگیڈیئر جنرل العثمان کی لاش اس کے فارم کے قریب سے ملی تھی۔ العثمان کو مسلح افراد نے گلا کاٹ کر قتل کردیا تھا ، بعد ازاں سکیورٹی اداروں نے ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں پہنچا دیا۔

مقتول "العثمان" کے بھانجے نے جرم کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے ماموں کو اس کی ذاتی آرام گاہ میں ہلاک کرنے کی کارروائی میں دوسرے ملزم کی معاونت کا اعتراف کیا۔ اس نے العثمان کے ہاتھ پاؤں باندھنے اور پھر قتل کی کارروائی کی تصویر کشی کا اقرار کرلیا۔

مقتول العثمان کے بھانجے نے عدالتی کارروائی کے دوران بتایا کہ اس کے ماموں کا گلا کاٹنے اور سر تن سے جدا کرنے کا عمل.. "القاعدہ" سے تعلق رکھنے والے اس کے نظریہ کاروں کے فتوے کے تحت پورا کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ "مقتول سکیورٹی ادارے میں کام کرنے کے سبب کافر اور مرتد ہے ، لہذا ان اداروں میں کام کرنے والے تمام لوگ کافر ہیں اور ان کا خون اور مال جائز ہے"۔

"رشتے داروں کو قتل کرنے والے" تین مراحل سے گزرتے ہیں۔ سب سے پہلے "لاتعلقی" کا اظہار، پھر تنظیم کے لیے "وفاداری" کا اعلان اور آخر میں "گلا کاٹنے کی تکبیر" ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں قبیح ترین منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب جون 2016 میں دو جُڑواں بھائیوں "خالد اور صالح" کے ہاتھوں 67 سالہ ماں کو چھرے مار کر اور گلا کاٹ کر قتل کردینے کے

اس سے پہلے بھی یکے بعد دیگرے کئی کارروائیاں منظرعام پر آئیں۔ ایک سعودی داعشی محمد الغامدی نے اپنے والد کو قتل کیا۔ اس کے بعد الغامدی کے ساتھی عبداللہ الرشید نے جولائی 2015 میں اپنے فوجی ماموں کرنل راشد ابراہیم الصفیان کو ہلاک کردیا۔ داعش تنظیم نے "عبداللہ الرشید" سے منسوب ایک ریکارڈنگ بھی جاری کی تھی جس میں اس نے اپنی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے تمہارے بھائی کو قتل کردیا کیوں کہ وہ مرتد تھا"۔

فروری 2016 میں رشتے داروں کو ہلاک کرنے کا ایک نیا جرم منظرعام پر آیا جس کا شکار شہید بدر الرشیدی تھا۔ قاتلوں میں بدر کا ایک خالہ زاد بھائی بھی شامل تھا جو ریاض کے ایک ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرتا تھا۔ قتل کا یہ اندوہ ناک واقعہ مملکت کے دو شہروں بریدہ اور عنیزہ کے درمیان مرکزی شاہراہ پر پیش آیا۔ داعشی نوجوانوں نے اس واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر بھی جاری کی۔

ستمبر 2015 میں 21 سالہ سعد العنزی اپنے 18 سالہ بھائی عبدالعزیز العنزی کے ساتھ ایک وڈیو کلپ میں ظاہر ہوا جس میں دونوں بھائیوں نے مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے اپنے چچا زاد بھائی مدوس فایز العنزی کو عیدالاضحی کے روز ہلاک کرنے کا منظر ریکارڈ کیا۔

رشتے داروں کے قتل سے متعلق "داعش" کا فتوی ایک بصری کلپ سے وابستہ ہے جو درحقیقت ایک دعوتی لیکچر ہے جو مبینہ طور پر کسی سعودی باشندے کا ہے۔ اس میں کھلم کھلا طور پر رشتے داروں اور گھروالوں کے قتل پر اکسایا گیا ہے۔

لیکچر کی عکس بندی داعش کے زیرکنٹرول کسی علاقے میں کی گئی ہے۔ لیکچر دینے والی شخصیت نے عسکری شعبوں میں ملازم رشتے داروں کے قتل پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

داعشی ترجمان نے اپنے خطاب میں باور کرایا کہ "اس عمل سے دین کا قیام عمل میں آئے گا"۔ اس نے مزید کہا کہ "جزیرہ عرب میں رہنے والوں میرے بھائیوں اپنے باپ ، بھائی اور چچا سب سے لا تعلقی اختیار کرو۔ اگر ان میں کوئی عسکری شعبے سے وابستہ ہے تو پہلے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرو اور پھر اس کو قتل کر ڈالو۔ اگر کوئی اعلان کرنا چاہے تو اس سے کہو کہ اعلان نہ کرو، پہلے دو فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارو پھر تنظیم کی صفوں میں شامل ہوجاؤ"۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنوری 2016 میں فارس احمد جمعان آل شویل الزہرانی عُرف "ابو جندل الاسدی" کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد ہوا۔ وہ 47 ملزمان میں شامل تھا، ان میں 4 کو راہ زنی کی حد یعنی ریاست کے خلاف جنگ کی حد کے تحت قتل کیا گیا جب کہ بقیہ ملزمان پر تعزیر نافذ کی گئی۔

" آل شویل" کو القاعدہ تنظیم کے افکار کا حامل ایک اہم نظریہ کار شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے 9 کتابیں تالیف کیں۔ ان میں سعودی انٹیلجنس کے اہل کاروں کے قتل کے جواز کا پیغام دیا گیا۔ اس کی ایک کتاب کا عنوان "وصايا للمجاهدين" یعنی مجاہدین کے لیے ہدایات ہے۔ اس میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور دیگر تکفیری جماعتوں کے لیے مختلف سرگرمیوں سے متعلق اہم ہدایات دی گئی ہیں۔