بشارالاسد کے آبائی شہرمیں ایک ماہ کے دوران 66 فوجیوں کی تدفین

سرکاری فوجیوں کی ہلاکتوں میں غیرمعمولی اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں جہاں صدر بشار الاسد کی جانب سے حالات کو کنٹرول میں لانے کی کوششوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہیں انہیں اپنے آبائی شہر القرادحہ جیسے علاقوں میں بھی باغیوں کے ہاتھوں بدترین جانی نقصان کا بھی سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے دوران القرادحہ میں 66 سرکاری فوجیوں کے جنازے اٹھائےگئے۔ اتنی کثیر تعداد میں سرکاری فوجیوں کی ہلاکتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بشار الاسد کی طرف سے حالات پر گرفت مضبوط بنانے کے دعوے محض خیالی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق بشار الاسد کے آبائی شہر میں سرکاری فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے مذکورہ اعداد وشمار سےجہاں فوج میں ان کے آبائی شہر کے باشندوں کی تعداد کا اندازہ ہوتا ہے وہیں الاذقیہ گورنری میں شامی فوج اور اس کی معاون روسی افواج کے تازہ حملوں سے اسد رجیم کی بوکھلاہٹ کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو شامی اور روسی فوج نے اللاذقیہ میں ایک نئی فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کا مقصد عالمی توجہ شامی باغیوں کی بڑھتی کارروائیوں اور ان کے سرکاری رد عمل پر مرکوز کرانا تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کے آبائی شہر میں ایک ماہ کے دوران 66 فوجیوں کی ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب فوج میں بد نظمی اور کرپشن کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔

خیال رہے کہ ’القرادخہ‘ شام کے متنازع صدر بشار الاسد کا آبائی شہر ہے۔ اس شہر کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکتیں اللاذقیہ گورنری سمیت کئی دوسرے محاذوں پرہوئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو ملنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی سے 28 جولائی تک القرادحہ میں 66 سرکاری فوجیوں کو دفن کیا گیا۔

القرادحہ کے مہلوک فوجیوں میں کئی سینیر افسران بھی شامل ہیں۔ ان میں بریگیڈئیر عماد محمود عباس، بریگیڈیئر آصف منیر، بریگیڈیئر جنرل عصام صافی ابراہیم، بریگیڈیئر اکرم طاھر جدید، کپیٹن مہدی ابراہیم الزینی، کرنل علاء محمود وطفی، کرنل رائد جودت علی، کیٹپن ماھر رفیق جدید، میجر محمد سلیم خزام، میجر وائل عبدالرحیم حبیب، میجر عمار حسین محمد، سپاہی سومر منیف سعود، غدیر حسین محمد اور علی نضال حمیشہ جیسے سینیر اہلکار شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں