بشار الاسد کے حامیوں کی شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں

سرکاری فوج کے زیرکنٹرول علاقوں میں شہریوں کی زبانی کاٹنے کے مطالبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں حال ہی میں صدر بشارالاسد کی جانب سے باغیوں کے لیے عام معافی کے اعلان کے ساتھ ساتھ ان کے حامیوں کی طرف سے عام شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر اسد کی طرف سے حکومت مخالف باغیوں کے لیے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں معافی دیے جانے کے اعلان پرسوشل میڈیا پر طنزیہ رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چھ سال تک قوم کا بے دریغ خون بہانے والے صدر بشارالاسد اب کس منہ سے عام معافی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے عام معافی کے اعلان کے بہکاوے میں شامی قوم پہلے آئی اور نہ آئندہ آئے گی۔

صدر اسد کے عام معافی کے بیان کے ساتھ ساتھ شام کے سرکاری فوج کے زیرکنٹرول علاقوں میں سرگرم اسدی گماشتوں کی طرف سے عام شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی حلب کے جن علاقوں کو حال ہی میں شامی فوج نے روسی فوج اور ایران نواز ملیشیا کی معاونت سے باغیوں سے چھڑایا ہے، وہاں کی آبادی کو بشار الاسد کے حمایتی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ صدر اسد کے حامی عناصر عام آبادی کو کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے شامی فوج کی آمد پر جشن نہیں منایا۔ اس پرانہیں اس کی سزا دی جائے گی۔ ان کی زبانیں کاٹ دی جائیں گی اور جشن نہ منانے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

بشار الاسد کے اعوان انصاری جانب سے دھمکی آمیز زبان استعمال کئے جانے پر حلب کے شہریوں نے سخت خوف اور خطرات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے وفادار عناصر داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسدی عناصر عام آبادی میں حکومت کے مخالفین کو تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی راہ ہموار کی جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں