حلب کا محاصرہ، کرد جنگجو ایرانی ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمالی شہر حلب میں روسی فوج، صدر بشار الاسد کی دفادار فوج، ایرانی پاسداران انقلاب اور ایران نواز شیعہ ملیشیا کے ساتھ ساتھ کرد جنگجو بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں۔ میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شام کے کرد جنگجو جو ’یونٹ برائے محافظان کرد‘ کے نام سے منظم ہیں ایران نواز ’باقر بریگیڈ‘ کے ساتھ حلب کے محاصرے میں تعاون کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسی سیاق میں فارسی نیوز ویب پورٹل ’’جنگی رپورٹس‘‘ نے شام میں محاذ جنگ کی کچھ تصاویر شائع کی ہیں جن سے جہاں عراق اور شام میں ایران کی کھلی فوجی مداخلت کا پتا چلتا ہے بلکہ ان میں کردوں کو ایرانی فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں کردوں کی نمائندہ’وحدات الشعب‘ نامی تنظیم کے جنگجو ایران نواز شیعہ ملیشیا ’باقر بریگیڈ‘ کے جنگجوؤں کے ہمراہ حلب کی الشیخ مقصود کالونی میں ایک جگہ جمع دکھائی دیے گئے ہیں۔

ایک دوسری تصویر میں کرد جنگجوؤں کو باقر بریگیڈ کے سربراہ الحاج خالد المعروف ابو الحسین کےاپنی تنظیم اور کرد جنگجوؤں کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔یہ گروپ حلب میں اپوزیشن کے خلاف ایک نئی جنگ کی تیاری کررہاہے۔

ایک تصویر میں ابوحسین کو ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم نجی ملیشیا القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ دکھا گیا ہے۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ جنوبی حلب ک شامی اپوزیشن سے چھڑانے میں باقر بریگیڈ اور القدس فورس کا شامی فوج سے غیرمعمولی معاونت رہی ہے۔

ادھر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق چیئرمین سعید جلیلی نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی مسلسل حمایت کے بارے میں ایران کے مقتدر حلقوں میں اختلافات زیادہ شدت اختیار کرگئے ہیں۔ گذشتہ بدھ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جلیلی کا کہنا تھا کہ ایران میں اب یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ تہران کی دمشق حکومت کی مسلسل مدد اور حمایت نے شام کے بحران کو طول دینے کے ساتھ اسے اور بھی گھمبیر کیا ہے۔

جلیلی جو گارڈین کونسل کے رکن اور آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار بننے کے بھی خواہاں ہیں کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ میں بشارالاسد کی حمایت کے بارے میں ایران کے مقتدر حلقوں میں اختلافات روز اول سے تھے اور اب بھی نہ صرف برقرار ہیں بلکہ ان میں شدت آئی ہے۔

باقر بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کا ایک منظر
باقر بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کا ایک منظر
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں