القاعدہ کے چہرے پر نئے سیاسی میک اپ کا رنگ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک متحرک سیاسی میک اپ سے ملتی جلتی کوشش میں ، شام میں عسکری جماعت "النصرہ محاذ " نے القاعدہ تنظیم کی نمائندگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جمعرات کے روز جاری وڈیو پیغام میں "النصرہ محاذ" کی سرگرمیوں کو ختم کر کے "فتح الشام محاذ" کے نام سے ایک نئی عملی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا جس کا کسی بیرونی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

علاحدگی سے متعلق بیان القاعدہ کے نمائندے ابو محمد الجولانی جس کا اصلی نام اسامہ العبسی ہے، اس کی جانب سے آیا۔ الجولانی نے ہی خود سے اگست 2011 میں شام میں القاعدہ کی شاخ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

اپریل 2013 میں "ابو بكر البغدادی" نے دونوں ناموں "دولۃ العراق الاسلاميہ" اور "جبهۃ النصرہ" کو ختم کرکے دونوں تنظیموں کو ایک نئے وجود میں "الدولۃ الإسلاميۃ في العراق والشام" کے نام سے ضم کرنے کا اعلان کیا۔ "الجولانی" نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اگلے روز جبھۃ النصرہ کی جانب سے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی بیعت کا اعلان کیا۔

القاعدہ کو مادر تنظیم بنا کر متعدد ناموں سے شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں کی تشکیل کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ القاعدہ تنظیم کی یمن میں شاخ "انصار الشريعۃ" کے نام سے ، مصر میں "جماعۃ بيت المقدس" کے نام سے ، صومالیہ میں "حركۃ الشباب الاسلامی" کے نام سے اور الجزائر میں "الجماعۃ السلفيۃ للدعوہ والقتال" کے نام سے منظرعام پر آچکی ہیں۔

سکیورٹی مبصرین کے نزدیک نئی تشکیل کا اعلان محض "جہادی" دمک کو پھر سے زندہ کرنے اور اپنی کٹر دشمن تنظیم "داعش" کے پاؤں کے نیچے سے "خلافت" کی بساط کھینچنے کی ایک تدبیر ہے۔

"داعش" تنظیم کی مزاحمت اور اس کے ساتھ "امارت" کی تشکیل کے لیے مرکزی علاقے کو پانے کی تیاری کے سلسلے میں کوشش درحقیقت "خلافت" کے آغاز کی تیاری کے واسطے ہے۔ اس کے علاوہ "عالمی اسلامی مزاحمت" کی فوج تیار کرنا جس کے بارے میں حمزہ بن لادن نے اپنے پہلے بیان میں بتاتے ہوئے کہا تھا کہ "بیت المقدس وہ دُلہن ہے جس کا مہر ہمارا لہو ہے"۔

اس نے "شام میں جہاد" پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد "اسلام اور کفر کے درمیان فیصلہ کن معرکے کے ذریعے بیت المقدس کی آزادی کے لیے ایک عظیم لشکر تیار کرنا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بہترین میدان شام کی مبارک سرزمین ہے"۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے 23 مئی 2016 کو اپنی رپورٹ میں القاعدہ تنظیم کے نئے منصوبوں کا انکشاف کیا تھا۔ ان کا مقصد "الاخوان" اور "السلفیہ" جماعتوں کے ساتھ اعلانیہ مشترکہ تعاون کے ذریعے اپنی تشکیل نو اور "سیاسی ، دعوتی اور جہادی" ذمہ داریوں کی تقسیم ہے۔

یہ وہ ہی لبادہ ہے جس میں "القاعدہ جونیئر".. النصرہ محاذ کے سربراہ الجولانی کے وڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ اس دوران الجولانی کے دائیں جانب "ابو فرج المصری" تھا (مرسی نے 2011 میں حکومت سنبھالنے کے بعد اس کو متعدد جہادی رہ نماؤں کے ساتھ رہا کردیا تھا) اور بائیں جانب "النصرہ محاذ" کا ایک اہم رہ نما "عبدالرحيم عطون" عُرف "ابو عبد الله الشامی" تھا۔

خلاصہ یہ کہ ایسے تین ونگ تشکیل دیے جائیں جن کے سائے تلے شام میں لڑنے والی جماعتوں کی قیادت اکٹھا ہوجائے۔ ان میں پہلا ونگ جہادی جماعتوں کا ، دوسرا ونگ سیاسی امور چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد تیار کرنے والا اور تیسرا ونگ شرعی طور پر گہرا جائزہ لینے والا ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق "جبھۃ فتح الشام" کو "الاخوان کے لیے القاعدہ کا عسکری ونگ" کا نام دینا زیادہ بہتر ہے۔

ایمن الظواہری اپنے ایک سابقہ خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ بہار عرب کی انقلابی تحریکوں میں صرف شام کی تحریک ایسی ہے جس نے "شریعت کی اقامت اور اس کو مضبوط کرنے کے لیے صحیح راستہ اپنایا"۔

"فتح الشام محاذ" کے رہ نما ابو عبد الله الشامی نے ایک سابقہ پیغام میں (جس کو النصرہ محاذ نے جاری کیا تھا) عرب دنیا میں انقلابی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اسلامی ملکوں میں ظلم و جبر کی جو داستانیں رقم ہوئیں ان کی وجہ صرف اسلامی خلافت کا سقوط اور ملکوں کی تقسیم ہے۔

"الجولاںی" نے بھی ایک خلیجی سیٹلائٹ چینل کو دیے گئے انٹرویو میں القاعدہ سربراہ الظواہری کی جانب سے انقلابی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کے مطالبے کی تائید کی تھی۔ الجولانی نے کہا کہ " یہ حکمران پرامن مظاہروں کی زبان نہیں سمجھتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں