.

حوثیوں کے ساتھ معاہدہ.. معزول صدر کی جماعت میں پھوٹ کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مبصرین کے نزدیک یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے ملک کے امور چلانے کے لیے ایک سیاسی کونسل تشکیل دینے سے متعلق حوثیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے.. وہ نہ صرف باغیوں کی جانب سے کویت مذاکرات کا سقوط ہے بلکہ اس سے جنرل پیپلز کانگریس کے اندر پھوٹ پڑجانے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

معاہدے طے پانے کے بعد چوبیس گھنٹوں سے بھی پہلے عدن، حضرموت اور مارب صوبوں میں صالح کی سیاسی جماعت کی شاخوں نے معاہدے کو مسترد کرنے اور ساتھ ہی صدر عبدربہ منصور ہادی کی آئینی حیثیت اور ڈاکٹر احمد عبید بن دغر کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے شمال اور جنوب میں دیگر صوبوں کی شاخوں کی جانب سے بھی مماثل مواقف سامنے آئیں گے۔

عدن ، مارب اور حضرموت صوبوں میں جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کی شاخوں کی جانب سے معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان شاخوں نے اپنے علاحدہ بیانوں میں کہا ہے کہ "انقلابی فریقوں کی جانب سے سیاسی کونسل کی تشکیل اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ یمن میں سیاسی حل سے متعلق تمام امکانات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام سیاسی جانب باقی رہ جانے والے عناصر کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔ کونسل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ قومی منشور کی صریح مخالفت ہے۔ جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کو اس معاہدے سے فوری طور پر لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے"۔