اقوام متحدہ کی اسد حکومت کو نئے امن مذاکرات میں شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے لیے اقوام متحدہ کے نائب ایلچی رمزی عزالدین رمزی نے شامی حکومت کو اگست کے آخر میں حزب اختلاف کے ساتھ امن بات چیت کے نئے دور میں شرکت کی دعوت دی ہے۔اس پر شامی حکومت نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر رمزی نے اتوار کے روز دمشق میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم اور ان کے نائب فیصل مقداد سے الگ الگ بات چیت کی ہے۔بعد میں انھوں نے بتایا ہے کہ ''میں نے وزیر خارجہ اور ان کے نائب کو خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا کے اگست کے آخر میں شامی فریقوں کے درمیان دوبارہ مذاکرات منعقد کروانے کے ارادے سے آگاہ کردیا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ '' میں نے وزیر خارجہ کو یہ وضاحت کی ہے کہ ہم سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو مذاکرات میں کیسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی اس کو قابل اعتبار قرار دے کر اس کی توثیق کر چکی ہے اور ہم نے اسی پر تبادلہ خیال کیا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ولید المعلم نے ان مذاکرات کے انعقاد کی صورت میں ان میں شامی حکومت کی شرکت کے ارادے کا اظہار کیا ہے''۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے بھی کہا ہے کہ شامی حکومت کسی پیشگی شرط کے بغیر شامی فریقوں کے درمیان ان مذاکرات میں شرکت کو تیار ہے اور ان میں کوئی غیرملکی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے منگل کے روز جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اگست کے آخر میں شامیوں کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور منعقد کرنا چاہتے ہیں۔

ڈی مستورا شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ قبل ازیں اس سال کے اوائل میں شام کے بارے میں امن مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں لیکن ان میں بحران کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

ڈی مستورا نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا تھا جب شام میں اور خاص طور پر شمالی شہر حلب میں مسلح حزب اختلاف کو مشکلات کا سامنا ہے اور شامی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ شہر کے مشرقی علاقوں کا مکمل گھیراؤ کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ سال دسمبر میں شام کے لیے امن روڈ میپ کی منظوری دے تھی۔اس کے تحت شام میں یکم اگست 2016ء تک ایک عبوری حکومت کے قیام پر زوردیا گیا تھا۔اس کے بعد ایک نیا آئین مرتب کیا جائے گا اور 2017ء کے وسط تک نئے انتخابات ہوں گے۔مگر اس کے بعد سے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان صدر بشارالاسد کے مستقبل کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار چلے آرہے ہیں۔

شامی حکومت بشارالاسد کی ممکنہ رخصتی کے حوالے سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکی ہے جبکہ حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکرات کمیٹی کا موقف ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے سے اتفاق نہیں کرے گی جس کے تحت بشارالاسد بدستور صدارت کے عہدے پر فائز رہیں۔

واضح رہے کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں دولاکھ اسّی ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ملک کی نصف آبادی اس وقت دربدر ہے اور ان میں نصف یعنی چالیس سے پچاس لاکھ کے لگ بھگ شامی شہری پڑوسی ممالک ترکی ،اردن ،لبنان میں مہاجر کیمپوں یا شہروں میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں