حوثی باغی مانع حمل گولیاں کیوں کھاتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں مانع حمل ادویات برآمد ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یمنی باغی مرد مانع حمل ادویات کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کوئی ٹھوس رائے سامنے نہیں آسکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں مانع حمل ادویات ملی ہیں۔ اسی ضمن میں العربیہ نیوز چینل کو ایک فوٹیج موصول ہوئی ہے جس میں باغیوں کے ٹھکانوں سے ملنے والی مانع حمل ادویات دکھائی گئی ہیں۔ مانع حمل ادویات میں کیپسول اور گولیاں شامل ہیں۔

چند ہفتے پیشتر العربیہ نے نامہ نگار نے حراست میں لیے گئے ایک حوثی کا انٹرویو کیا تھا۔ اس سے بھی مانع حمل ادویات کے استعمال کا سوال کیا گیا۔ اس پرگرفتار باغی کا کہنا تھا کہ وہ اس دوائی کے استعمال کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ چونکہ ان کے سینیر عہدیدار انہیں یہ ادویہ کھانے کی تاکید کرتے رہے ہیں۔ اس لیے وہ انہیں کھاتے ہیں۔ باغی جنگجو کا کہنا تھا کہ مانع حمل کیپسول ان افراد کو کھلایا جاتا جو گولی لگنے سے زخمی ہوجاتے۔

مسلح افواج سے وابستہ سعودی ڈاکٹر حسین القحطانی نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مانع حمل ادویات میں بڑی مقدار’اسٹرجین‘ ہارمونز کی ہوتی ہے جو رگیں کٹ جانے کی صورت میں خون کا بہاؤ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حوثی باغی اپنے زخمیوں کو مانع حمل گولیاں کھلاتے رہے ہیں۔ گولی لگنے سے جسم میں ہونے والے زخم اور اس سے بہنے والے خون کو روکنے کے لیے باغی ایک دوائی کے طورپر اس گولی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں