داعش کے شمالی عراق میں توانائی کے دو پلانٹس پر حملے ،5 ملازمین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے عراق کے شمالی علاقے میں واقع توانائی کے دو پلانٹس پر بموں سے حملے کیے ہیں جن میں پانچ ملازمین ہلاک ہوگئے ہیں اور تیل نکالنے کا ایک بڑا اسٹیشن بند ہوگیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے شمالی شہر کرکوک سے شمال مغرب میں واقع ایک گیس کمپریسر اسٹیشن پر مقامی وقت کے مطابق اتوار کو علی الصباح تین بجے حملہ کیا تھا۔داعش کے دستی بموں سے مسلح چار جنگجو اسٹیشن کے ایک بیرونی دروازے سے اندر گھسنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ان کے بیرونی حملے میں دو محافظ شدید زخمی ہوگئے تھے۔اس کے بعد انھوں نے ایک کنٹرول روم کے اندر چار ملازمین کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔انھوں نے وہاں دستی بم نصب کردیے تھے۔عراقی ذرائع کے مطابق ان میں سے پانچ پھٹ گئے ہیں۔

اس حملے کی اطلاع ملتے ہی ایلیٹ انسداد دہشت گردی فورس نے اس اسٹیشن پر دھاوا بول کر کنٹرول حاصل کر لیا اور ایک الگ کمرے میں چھپے ہوئے پندرہ ملازمین کو بازیاب کرا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کے بعد حملہ آور وہاں سے مزید پچیس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع بائی حسن آئیل اسٹیشن کی جانب بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہاں بھی انھوں نے اسی انداز میں حملہ کیا تھا اور ان میں سے ایک نے بیرونی دروازے پر اپنی بارودی جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے بعد دوسرے حملہ آور اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔وہاں دو حملہ آوروں نے اپنے جسموں کے ساتھ بندھے بارود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا جس سے تیل ذخیرہ کرنے کا ایک ٹینک تباہ ہوگیا۔چوتھا حملہ آور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوگیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ایک تیل انجینیر ہلاک اور چھے پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔اس حملے کے بعد ایک آئیل اسٹیشن سے تیل کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔وہاں سے یومیہ 55 ہزار بیرل تیل خود مختار شمالی علاقے کردستان کو مہیا کرنے کے لیے پمپ کیا جاتا ہے۔

کرکوک اور اس کے نواحی علاقوں میں کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کا گذشتہ دوسال سے کنٹرول ہے اور وہ اب نواحی دیہات میں ان حملوں میں ملوّث جنگجوؤں اور ان کے ساتھیوں کی تلاش میں ہیں۔داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی اعماق نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے بائی حسن تنصیب پر حملے کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے اپنے بیان میں پہلے حملے کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔

درایں اثناء ایک عراقی عہدے دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ جنگجوؤں کے حملے کے بعد سے دبیس میں واقع گیس کی تنصیب میں ابھی تک آگ لگی ہوئی ہے۔اس قصبے کے میئر عبداللہ نورالدین کا کہنا ہے کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔صورت حال اب کنٹرول میں ہے لیکن آگ بجھانے والا عملہ ابھی تک کمپریسر میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہے۔تاہم ان کے بہ قول حملے سے دبیس پاور پلانٹ کے کام پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں