فوجی افسر کےقتل کے الزام میں 13 اخوانیوں کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک مقامی عدالت نے الجزیرہ گورنری کے سابق ڈپٹی سیکیورٹی ڈائریکٹر میجر جنرل نبیل فراج کے قتل کے الزام میں کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے 13 کار کنوں کو سزائے موت سنائے جانے کے لیے ان کا کیس حتمی رائے کےلیے مفتی اعظم کے پاس بھجوا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مفتی اعظم کی طرف سے رائے آنے کے بعد ملزمان کے خلاف 24 ستمبر کو سزا کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

مصری پراسیکیورٹر جنرل کی جانب سے تیار کردہ فرجرم میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ ملزمان میجر جنرل نبیل فراج کے قتل، شدت پسندانہ سرگرمیوں پر اصرار،اقدام قتل، پولیس پرحملوں، اسلحہ اور آتشیں ہتھیاروں کا غیرقانونی استعمال، دھماکوں، دھماکہ خیز مواد کی تیاری، بغیر اجازت کے حساس آلات اپنے قبضے میں رکھنے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے، دہشت گردی کی حمایت کرنے، شدت پسندانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈز ریزنگ، خلاف قانون تنظیم سازی، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے ساتھ دغا بازی کا مظاہرہ کرنے، قومی سماجی امن کو نقصان پہنچانے اور پبلک مقامات اور پبلک پراپرٹیز کو تباہ کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔

ممکنہ طور پر سزائے موت پانے والے اخوان کارکنوں میں محمد سعید فرج سعد المعروف محمد قفاس، مصطفیٰ محمد حمزاوی، احمد محمد الشاھد، صہیب محمد نصرالدین الغزلانی، فرج السید عبدالحافظ، محمد عبدالسمیع حمیدہ، عبدالغنی عارف ابراہیم، جمال مبابی اسماعیل، خالد علی محمد علی ، احمد المتولی السید، احمد عبدالحمید السید، ولید سعد ابو عمیرہ اور شحاط مصطفیٰ محمد شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مصری سیکیورٹی فورسز نے ستمبر سنہ 2013ء کو قاہرہ میں رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں اخوان المسلمون کےحامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مذکورہ ملزمان کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ الجیزہ گورنری کے ڈپٹی سیکیورٹی چیف میجر جنرل نبیل فراج کے قتل اور 9 پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے میں ملوث ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں