یمن : دہشت گردی کے لیے باغیوں کے ہاتھوں پناہ گزینوں کی بھرتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی حکومت نے باغی ملیشیاؤں کی جانب سے ملک میں افریقی پناہ گزینوں کے استحصال اور دہشت گرد کارروائیوں کے لیے ان کو بھرتی کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ بریگیڈیئر جنرل حسین عرب نے بتایا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک سمندر اور غیرقانونی راستوں کے ذریعے 64 ہزار سے زیادہ افریقی پناہ گزین یمن پہنچے ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی "سبا" کے مطابق حسین عرب نے عدن میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے امور پناہ گزین کے وفد سے ملاقات کی۔ اس دوران یمنی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان کے ملک پہنچنے والے افریقی باشندوں میں 10 ہزار صومالی اور بقیہ ایتھوپی ہیں۔

یمنی باخبر ذرائع نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی حوثی قیدیوں سے ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ایران کی جانب سے افریقی ممالک میں بھرتی کیے گئے اور پھر پناہ گزینوں کی شکل میں یمن آئے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بھرتی کیے جانے والے ان افراد کو ایک افریقی ملک میں ایران کی جانب سے بھرپور عسکری تربیت فراہم کی گئی۔ یہ لوگ سمندر کے راستے سیکڑوں افریقی پناہ گزینوں میں شامل ہو کر یمن پہنچے اور پھر ان کو ملیشیاؤں کے سکیورٹی تعاون سے حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں تک منتقل کیا گیا۔

گزشتہ جنوری کے اواخر میں مقامی اور بیرونی میڈیا میں یہ خبر زیرگردش تھی کہ حوثی جماعت درجنوں غیرملکیوں بالخصوص افریقی نژاد باشندوں کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر مہم چلا رہی ہے۔

ان معلومات کے مطابق گرفتار شدگان کو پولیس کے شعبوں میں جمع کیا جاتا ہے اور پھر صنعاء کی مرکزی جیل منتقتل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں جیل میں رہنے یا ملیشیاؤں کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لینے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں