یمن کی 85% آبادی "غربت" کا شکار ہے : عالمی بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں غریب افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں غربت کی شرح 85 فی صد سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد کا اندازہ 2.6 کروڑ لگایا گیا ہے۔ بینک کی رپورٹ کے مطابق " غربت میں اضافے کے نتیجے میں خرچ میں کمی آئی ہے ، عوامی سرمایہ کاری اور غریبوں کے لیے نقد امداد کے پروگرام منجمد ہوگئے ہیں ، اجرت الاؤنس اور بنیادی سماجی خدمات مثلا تعلیم ، صحت ، پانی اور بجلی پر خرچ میں کمی آئی ہے"۔

عربی اخبار الحیات کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی نے بلیک مارکیٹ کے نمودار ہونے میں اہم کردار ادا کیا جہاں مقامی کرنسی (ریال) کی قدر میں اب تک ایک چوتھائی سے زیادہ کمی ہوچکی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن اس وقت جنگ ، تنازع اور تیل کی کم قیمتوں کے نتیجے میں جنم لینے والے روح فرسا بحران سے لڑ رہا ہے۔ بجٹ کے منافع میں تیل کی آمدنی کا حصہ 60 فی صد سے زیادہ ہے۔ بینک کے مطابق " جنگ ، آئل فیلڈز میں تخریب کاری کی کارروائیوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے 2015 کی مجموعی قومی پیداوار میں تیل کی آمدنی گر کر 3 فی صد رہ گئی جب کہ 2013 میں اس کی شرح 13 فی صد تھی۔ ایک ایسے ملک میں جس کی مجموعی قومی پیداوار تقریبا 38 ارب ڈالر ہو ، تیل کی آمدنی میں 4 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی"۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 کی مجموعی قومی پیداوار میں مالی خسارہ بڑھ کر 11.4 فی صد ہوگیا جب کہ اس کے گزشتہ سال یہ شرح 4 فی صد تھی۔ اس دوران حکومت نے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بونڈز جاری کیے جس کے نتیجے میں 2014 میں 22.1 ارب ڈالر کا مجموعی سرکاری قرض 2015 میں بڑھ کر 25.9 ارب ڈالر ہوگیا۔ اس طرح سرکاری قرض کی شرح مجموعی قومی پیداوار کا 94 فی صد تک ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق " 2015 میں بیرونی سرمائے اور تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی آنے سے مرکزی بینک کے غیرملکی اثاثوں پر شدید دباؤ آیا۔ 2013 میں 5.3 ارب ڈالر کی سطح پر موجود اثاثے کم ہو کر 2.1 ارب ڈالر رہ گئے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں