.

فلسطینی سکیورٹی افسر اسلحہ سازی اور خریداری کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں فلسطینی سکیورٹی سروسز کے ایک افسر کو اسلحے کی تیاری اور خریداری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محیوب برہان راشد کنزہ کو مغربی کنارے کے شہر نابلس سے سوموار کو علی الصباح گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے قبضے سے ہتھیار بنانے کے آلات بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران غربِ اردن میں تشدد کے واقعات کے بعد فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران بھاری تعداد میں ہتھیار ضبط کیے ہیں،مبینہ اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بند کیا ہے اور اسلحے کے ڈیلروں کو گرفتار کیا ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اس سال کے دوران اب تک نابلس میں ہتھیار تیار کرنے میں استعمال ہونے والی سات مشینیں پکڑی ہیں۔

واضح رہے کہ یکم اکتوبر 2015ء کے بعد اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ بیت المقدس اور غربِ اردن میں فلسطینیوں کے خلاف سفاکانہ کریک ڈاؤن کارروائیوں میں 215 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں سے 130 کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔

فلسطینیوں کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 34 اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔اس دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں بھی متعدد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔