.

شام : حلب کا محاصرہ توڑنے کا معرکہ ، اپوزیشن کی بڑی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کے عسکری گروپوں نے حلب شہر کے جنوبی نواح میں بڑی پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ یہ پیش قدمی شہر میں شدید ترین معرکہ شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ معرکے کا آغاز شہر کے اطراف شامی حکومت کے محاصرے کو ختم کرنے کے لیے ہوا ہے۔

لڑائی کی ابتدا میں اپوزیشن گروپوں نے حلب کے جنوبی نواح میں متعدد محوروں پر شدید ترین حملے کیے۔ تقریبا 20 کلومیٹر طویل محاذ پر ہونے والی لڑائی میں اپوزیشن گروپوں کے 10 ہزار سے زیادہ جنگجو اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ شریک ہیں۔

شامی حکومت کی توقعات کے برخلاف اپوزیشن گروپوں نے پہلے حلب شہر میں زیادہ پہرے والے علاقوں کو نشانہ بنایا۔

انقلابیوں نے شامی سرکاری فوج کی 10 سے زیادہ بکتر بند گاڑیوں اور فوجی اکیڈمی کی عمارت میں متعدد راکٹ لانچنگ پیڈز کو تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ مؤتہ کے محاذ پر کئی ٹینکوں پر قبضہ بھی کرلیا۔ لڑائی میں سرکاری فوج کے درجنوں اہل کاروں کے علاوہ حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران بھی مارے گئے جب کہ متعدد فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا۔

اس دوران ربر کے ٹائر جلانے کی تدبیر نے سرکاری فوج کے طیاروں کی پرواز میں خلل ڈالنے اور مختلف محاذوں پر انقلابیوں کی پیش قدمی ڈھانپ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں سرکاری فوج نے حسب عادت شہریوں کے خلاف اندھادھند بمباری کا سہارا لیا جس میں روسی فضائیہ نے بھی حصہ لیا۔ شامی کارکنان کے مطابق ان حملوں میں شہریوں کی بڑی تعداد جاں بحق اور زخمی ہوئی۔

اس اہم معرکے میں فتح کی صورت میں انقلابیوں کو حلب شہر کے مشرقی حصوں کا محاصرہ ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوجائے گی۔