.

حلب میں نسل کشی کے خطرات پرانتباہ

شامی مندوب کا سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین کو مکتوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنگ زدہ شمالی شہر حلب میں جہاں بڑی تعداد میں شہریوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کی کوششیں جاری ہیں وہیں دوسری جانب شامی رجیم نے خبردار کیا ہے کہ حلب میں بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی کا خطرہ ہے۔

حلب میں نسل کشی کے خطرات پرانتباہ اقوام متحدہ کے شام کے مستقل مندوب بشارالجعفری کی جانب سے سلامتی کونسل کے چیئرمین اور سیکرٹر جنرل برائے انسانی امور کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں کیا گیا ہے۔

بشارالجعفری کی جانب سے بھیجے گئے انتباہی بیان مکتوب کی ایک نقل العربیہ نیوز چینل کوموصل ہوئی ہے۔ اس مکتوب میں انہوں نے عالمی سفارت کاروں اور بین الاقوامی ادارے کو خبردار کیا ہے کہ حلب میں آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر نسل کشی کے خطرات ہیں۔ اس لیے نسل کشی کے خطرے کے بارے میں پیشگی وارننگ دے رہے ہیں۔

مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے مشرقی حلب میں ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس دوران حکومت نے عام شہریوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے محفوظ گذرگاہوں کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی نگرانی میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے عارضی کیمپوں کا قیام اور مہاجرین کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی پروگرام بنایا ہے۔

بشارالجعفری کے مکتوب کے دو روز بعد حلب سے شہریوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے ترجمان فرہان حق نے خبردار کیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے شامی فوج اور حکومت پر زور دیا کہ وہ گھر بار چھوڑ نے والے شہریوں کے ساتھ غیرجانب دارانہ برتاؤ کرے اور تمام شہریوں کو رضاکارانہ طریقے سے نقل مکانی کا موقع فراہم کرے۔

اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی مستورا نے توقع ظاہر کی ہے کہ حلب میں شامی حکومت کی پیشکش کے بعد گھر بار چھوڑںے والے شہریوں کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حلب میں نقل مکانی کا عمل اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ تمام شہریوں کو کسی خطرے کے بغیر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے۔ انہوں نے نقل مکانی کے دوران متاثرہ شہروں میں زمینی اور فضائی حملوں کی روک تھام پر بھی زور دیا۔