بشار کے وفادار مقتولین کے خاندانوں کا اکرام "بسکٹ" سے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے دارالحکومت دمشق میں پیر کے روز ایک سرکاری تقریب منعقد کی گئی جس میں صدر بشار الاسد کی جانب سے لڑائی میں مارے جانے والے اہل کاروں کے خاندانوں میں اعزاز کے طور پر "بسکٹ" تقسیم کیے گئے۔ ہر خاندان کو مقامی طور پر تیار کردہ بسکٹ کے دو ڈبوں سے نوازے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ سرکاری ایجنسی "سانا" کے مطابق اس تقریب کو بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج دی گئی تاہم شامی صدر کی وفاداری میں جان دینے والوں کے اہل خانہ کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب اعزازی سرٹفکیٹ کے ساتھ ہر خاندان کو بسکٹ کے دو ڈبے فراہم کیے گئے۔

شامی صدر کے ہمنوا سوشل میڈیا کے پیجوں پر سرگرم حلقوں نے بشار الاسد کی حکومت کے دفاع میں ہلاک ہونے والوں کے لیے "اس خوب صورت جواب" کو اہانت آمیز قرار دیا۔

تقریب میں شریک ہر خاندان نے اپنے ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں شامی عوام کے خلاف بشار کی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس کے علاوہ ان خاندانوں نے خود ہی اپنے گروپ فوٹو بھی بنائے۔

بشار حکومت کے قریبی ایک میڈیا پرسن وسام الطیر نے اپنے فیس بک پیچ پر کہا ہے کہ مقتولین کے اعزاز میں ان کے اہل خانہ کو بسکٹ کے ڈبے تھما دینا سراسر اشتعال انگیزی ہے۔

فیس بک پر بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین دونوں کے پیجوں پر اس خبر کو شامی حکومت کے لیے ایک نیا اسکینڈل قرار دیا گیا ہے جو خود کے لیے جانیں قربان کردینے والوں کے ساتھ اتنے "گھٹیا پن" کا معاملہ کرتی ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل شامی سرکاری فوج نے جنگ میں مارے جانے والے اپنے اہل کاروں کے خان دانوں کا اکرام کرتے ہوئے انہیں دیوار پر لٹکانے والی گھڑی دی تھی۔ اس کے نتیجے میں اس وقت بھی شامی حلقوں میں تمسخر اور شدید غیض و غضب کی لہر دوڑ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں