شام: پارلیمنٹ کا مذہبی تعلیم ختم کرنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی پارلیمنٹ کے ایک رکن نبیل صالح نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ ملک تعلیمی نصاب سے مذہبی تعلیم کو ختم کرنے سے متعلق شق کو نئے پارلیمنٹ کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ کی 28 تاریخ کو بشار الاسد کی پارلیمنٹ نے واقعتا اسکولوں سے مذہبی تعلیم کے خاتمے پر بحث کی۔ معلوم ہوا ہے کہ دو خاتون ارکان پارلیمنٹ ریم الساعی اور فرح حمشو نے (جن کو اسلام پسند شمار کیا جاتا ہے) مذکورہ تجویز کی صریح مخالفت کی ہے۔

اللاذقیہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نبیل صالح نے باور کرایا ہے کہ پارلیمنٹ میں شامی اسکولوں سے مذہبی تعلیم کو ختم کرنے اور اس کے بدلے "اخلاقایات" کا مضمون شامل کرنے کا معاملہ زیربحث آیا۔

بشار حکومت کے نزدیکی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شامی حکومت کو ایک آئین کا مسودہ پیش کیا گیا ہے جس کو "شام کے لیے روسی آئین" کا نام دیا جارہا ہے۔ مذکورہ آئین میں تجویز دی گئی ہے کہ شام کے آئین سے صدر کے مذہب کا بیان ختم کیا جائے اور اس کے علاوہ ریاست کے نام سے عرب ہونے کی صفت کو بھی ختم کیا جائے تاکہ اس کا نام "شامی عرب جمہوریہ" کے بجائے "شامی جمہوریہ " ہوجائے۔

اسی طرح شامی آئین کے روسی مسودے میں حلف کے متن سے لفظِ (الله) کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں معمول بہ متن "میں اللہ کی قسم اُٹھاتا ہوں" کے بجائے "میں قسم اٹھاتا ہوں" ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ بشار الاسد نے شام کے لیے روسی آئین کے مسودے کا کبھی اقرار نہیں کیا۔ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ اس کے عدم وجود کا اعلان کرچکا ہے تاہم اس کے قریب ترین حلیف لبنانی تنظیم "حزب الله" قطعی طور پر تصدیق کرچکی ہے کہ اس کے پاس روسی مسودے کی ایک کاپی موجود ہے جس پر شامی حکومت کے نوٹس ہاتھ سے تحریر کیے گئے ہیں۔ اس امر کی تصدیق "حزب الله" کے زیرانتظام روزنامے "الاخبار" نے اپنی 17 جون 2016 کی اشاعت میں بھی کی ہے۔

یاد رہے کہ شام کے اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے مضمون کی تدریس ختم کرنے کی تجویز سے متعلق خبر کی تصدیق کے بعد.. بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی تعلیم کے مضمون کو "قومی تعلیم" سے بدل دینے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں