عراق : پاپولر موبیلائزیشن کمانڈر کا ولایت فقیہہ کی پیروی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے ایک کمانڈر ابو آلاء الولائی کا کہنا ہے کہ "ہمارا بریگیڈ ولایت فقیہہ سے مربوط ایک نظریاتی تشکیل ہے اور وہ عراقی سیاست دانوں کی پیروی نہیں کرتا"۔ الولائی موبیلائزیشن میں شامل ایک اہم گروپ " سيد الشہداء بریگیڈز" کا سکریٹری جنرل ہے۔ عراقی پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے مفہوم میں ولی فقیہہ سے مراد ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای ہیں۔

عراق میں سنی شہریوں کے خلاف قتل ، تشدد ، اغوا اور بے دخلی جیسے فرقہ وارانہ جرائم کے ارتکاب کی مورود الزام ٹھہرائی جانے والی پاپولر موبیلائزیشن ملیشیائیں اب عراق کی مسلح افواج کا حصہ ہیں۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے یہ اقدام ، تہران میں ذمہ داران کے اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران پاسداران انقلاب کے طرز "عراقی پاسداران انقلاب" کی تشکیل کا کا خواہش مند ہے۔

پاپولر موبیلائزیشن کی ویب سائٹ پر پیر کے روز بغداد میں ایک تقریب میں الولائی کا خطاب ڈالا گیا ہے۔ اس سید الشہداء بریگیڈز کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ "سڑکوں پر موجود شیعہ آئمہ کی تصاویر حکومت نے نہیں بلکہ لوگوں نے اور پاپولر موبیلائزیشن نے آویزاں کی ہیں۔ یہاں ایسی شاہراہیں اور جامعات تو موجود ہیں جو معصوم آئمہ کے قاتلوں کے ناموں سے موسوم ہیں مثلا شارع الرشید ، المنصور ہوٹل اور تھیٹر وغیرہ تاہم شہیدوں کے ناموں پر کوئی سڑک نہیں"۔

انسانی حقوق کی نگراں بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مذکورہ ملیشیاؤں کی جانب سے شہریوں کے خلاف قتل اور تشدد کے ارتکاب پر سزا نہ دیے جانے کی سخت مذمت کی تھی۔ تنظیم نے عراقی حکومت سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کو موصل آپریشن میں شریک ہونے سے روک دیا جائے۔

اتوار کے روز جاری بیان میں تنظیم نے بتایا تھا کہ "موبیلائزیشن" کے حملوں کے دوران درجنوں سنی افراد کو اغوا اور قتل کیا گیا۔ اس ک علاوہ سنیوں کے گھروں ، ان کی مساجد اور دکانوں کو بھی منہدم کیا گیا۔ یہ کارروائیاں "جنگی جرائم" کی سطح تک پہنچ گئیں"۔

ہیومن رائٹس واچ نے فلوجہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے آپریشن کے دوران پاپولر موبلائزیشن کی جانب سے ماورائے عدالت شہریوں کو فوری طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے، جبری روپوشی، ایذا رسانی اور گھروں کی تباہی کی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب پاپولر موبیلائزیشن میں شامل ایک نمایاں ترین گروپ فیلق بدر کے سربراہ ہادی العامری نے 25 جون کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ "پاپولر موبیلائزیشن حزب اختلاف کے سیاست دانوں کی مخالفت کے باوجود موصل کی آزادی کے آپریشن میں شریک ہوگی"۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق فلوجہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پہلے بھی پاپولر موبیلائزیشن میں شریک ملیشیاؤں کی جانب سے دیالی ، آمرلی اور تکریت میں وسیع پیمانے پر غیرانسانی کارروائیوں کا ارتکاب دیکھنے میں آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں