داعشی بچوں کے لیے مقابلے کا انعام "قیدی لڑکیاں" !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اعش تنظیم نے اپنے نامعلوم نسب کے بچوں کو "فرزندان ِ خلافت" کا نام دیا ہے۔ خلافت کا "نسب" ہر اس بچے کو دیا گیا ہے جس کے باپ کی شناخت داعش کے ہزاروں ارکان میں نامعلوم ہو ، خواہ یہ بچہ باپ کے مرنے کے بعد جنگجوؤں کی بیویوں کی متعدد شادیوں کا نتیجہ ہو یا پھر "سبایا" (جنگ میں قید ہو کر ملنے والی عورت) کے نام سے اس کو ملنے والی خواتین اور لڑکیوں کے سبب دنیا میں آیا ہو۔

شام میں ایک سکیورٹی ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ داعش تنظیم نے ایک عرصے سے نام نہاد "فرزندان خلافت کا کردار" قائم کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔ اس کا مقصد اُن مہاجرین کے بچوں کو گود لینا ہے جن کے باپ عسکری مقابلوں اور بین الاقوامی اتحاد کی کاری ضربوں میں ہلاک ہوچکے ہیں یا پھر بچے کی ماں نے کسی دوسرے مہاجر (جنگجو) سے شادی کرلی ہے اور وہ بچہ بنا ماں باپ کے تنہا رہ گیا۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق فرزندان خلافت کے کردار کے حامل بچوں میں سے 20% نامعلوم نسب والے ہیں۔ ان بچوں میں 90% "مہاجرین" کی اولاد ہیں ، ان میں 50% یورپی اور 40% عرب ہیں۔

تنظیم کی جانب سے "فرزندان خلافت کا کردار" پروگرام میں 12 سال سے کم عمر نامعلوم نسب کے حامل بچے اور بچیوں کو لیا جاتا ہے اور پھر ان کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے شرعی اور عسکری کورسز کرائے جاتے ہیں۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ عام طور پر بچوں کی تمام تر ضروریات کو اچھی طرح پورا کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ان کے لیے تفریحی اسفار کا بھی انتظام کیا جاتا ہے تاکہ ان کو تنظیم کی فکر اور اس کے نظریات کے مطابق تنظیم کی وفاداری کی جانب مائل کیا جاسکے۔

جہاں تک ان مراکز کے ذمہ داران کا تعلق ہے تو لڑکوں کی نگرانی الرقہ شہر سے تعلق رکھنے والے محمود الخميس عرف "ابو ماريہ الانصاری" اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے "ابو عزيز الجزراوی" کے ذمے ہے۔ لڑکیوں کی ذمے داری الرقہ شہر سے تعلق رکھنے والی "ام محمود الانصاريہ" اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی "ام عزيز الجزراويہ" کے علاوہ ایک برطانوی خاتون "زہرة ام جنيد" اور ایک عراقی خاتون فتون الشويخ عرف "ام عمير العراقيہ" کے پاس ہے۔

ان ذمہ داران کو ماہانہ 1000 سے 1800 امریکی ڈالر تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔

داعش تنظیم نے اپنے پروان چڑھنے کے ابتدائی ایام سے ہی تنظیم میں جنگجوؤں کی بیویوں اور داعش کے جنگجوؤں کی دوسری نسل کی ماؤں کی حیثیت سے ، عورتوں کے کردار پر بہت انحصار کیا ہے۔ خواہ یہ معاشی وجوہات کی بنا پر "سبایا " کی خرید و فروخت کی صورت میں ہو، تنظیم میں شمولیت کے مقصد سے نوجوانوں کو لبھانے کی صورت میں ہو، سکیورٹی اور جاسوسی میں کردار ادا کرنے کی صورت میں ہو اور اسی طرح بھرتی کی کارروائی کی لیے سوشل میڈیا کی سرگرم کارکن کی صورت میں ہو۔

حاصل شدہ معلومات کے مطابق داعش تنظیم 12 برس اور اس سے کم عمر بچوں کو روزانہ مسجد میں جمع کرتی ہے اور پھر ان کو شرعی لیکچر اور عربی زبان کے اسباق دیے جاتے ہیں۔ جو بچے 13 سے 15 برس تک کے ہوجائیں ان کو 15 روز تک خصوصی مقامات پر بند کمروں میں کورسز کرائے جاتے ہیں جہاں سے وہ مقررہ مدت سے پہلے باہر نہیں آ سکتے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ داعش کے ایک پمفلٹ کے ذریعے تنظیم کے ایک شرعی مقابلے کا اعلان کیا گیا جس میں 15 سال تک کی عمر کو پہنچ جانے والوں کو شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مقابلے میں اول اور دوم آنے والوں کے لیے بطور انعام "سبیہ" (جنگ میں قید ہو کر ملنے والی عورت) پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔

داعش تنظیم کے اپنے بچوں کے لیے قائم کیے گئے اسکول شام کے متعدد علاقوں میں تقسیم ہیں۔ ان میں الشدادی شہر میں 6 مختلف اسکولوں کے علاوہ البریج ، الدحام ، الحداجۃ اور عجاجۃ میں کئی اسکول شامل ہیں۔

ہر اسکول میں 50 سے 70 طلبہ ہوتے ہیں۔ جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے تو ان میں اکثریت انٹرمیڈیٹ ہوتی ہے جن کو ایک ماہ کا تربیتی کورس کرایا جاتا ہے۔

خوش اسلوبی سے پڑھنے اور لکھنے والا ہر شخص "داعش کے اساتذہ" میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے شرط یہ ہے کہ پہلے وہ مسجد میں دو ماہ کا شرعی کورس مکمل کرے اور اس کے بعد کسی متعین مضمون مثلا توحید یا عربی زبان میں مہارت حاصل کرے۔ اس معلم کو ماہانہ 40 ہزار شامی لیرہ تنخواہ دی جاتی ہے۔

جہاں تک اسکول کے یونیفارم کا تعلق ہے تو لڑکوں کے لیے داعش نے "قندھاری" شلوار قمیض رکھا ہے جب کہ لڑکیوں کے لیے اسکولوں میں داخلہ لینے کی پابندی ہے اور ان کی تعلیم کو مساجد میں مخصوص کردیا گیا ہے۔ اس تعلیم کی ذمے داری داعش تنظیم کی خواتین ارکان کے "الخنساء بریگیڈ" کو سونپی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں