.

یمن میں حوثیوں نے انسانی ڈھالوں کا استعمال کیا : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور ملک میں داعش تنظیم کے عناصر کو بھاری رقوم موصول ہوئیں۔

عالمی سلامتی کونسل کے لیے تیار کی جانے والی 105 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعز صوبے کے علاقے المخا میں حوثیوں نے جنگجوؤں کو شہریوں کے قریب روپوش کر دیا۔ یہ حملے کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایک دانستہ قدم تھا جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ملیشیاؤں کا عسکری مقاصد کے لیے ہسپتال کا استعمال

سعودی یمنی سرحد پر واقعات کا جائزہ لینے والی مشترکہ ٹیم کے میڈیا ترجمان اور قانونی مشیر منصور بن احمد المنصور کے مطابق "مسلح ملیشیاؤں نے صعدہ میں ایک ہسپتال کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا"۔

ترجمان نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے اُن دعوؤں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ نہم میں ایک عوامی بازار کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ المنصور نے باور کرایا کہ تحقیقات سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ جائے مقام کے اطراف میں صرف 7 افراد موجود تھے اور یہ بات بھی معلوم رہے کہ کارروائی میں حوثی ملیشیاؤں کی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے اپنی لڑائی کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک ماہ میں یمن کے مرکزی بینک سے 10 کروڑ ڈالر منتقل کیے۔ نومبر 2014 میں مرکزی بینک میں غیرملکی زرمبادلہ کا حجم 4.6 ارب ڈالر تھا جو جون 2016 میں کم ہو کر 1.3 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حوثیوں نے صنعاء پر قبضے کے بعد اپنے تنخواہ دار جنگجوؤں کی فہرستوں میں ہزاروں ناموں کا اضافہ کیا۔

داعش اور بھاری مالی رقوم

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں "داعش تنظیم کو یمن میں بھاری مالی رقوم حاصل ہوئیں جن کو وہ بھرتی کے لیے مائل کرنے اور گولہ بارود خریدنے میں استعمال کر رہی ہے"۔ تاہم رپورٹ میں ان رقوم کے ذریعے کا تعین نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق "فنی نقطہ نظر سے القاعدہ تنظیم کی میدانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کا ثبوت تنظیم کی جانب سے یمن میں استعمال کے لیے جدید ترین دھماکا خیز آلات کی تیاری ہے۔ تنظیم کی جانب سے یہ بات بھی ظاہر ہورہی ہے کہ اس کے پاس بم تیار کرنے والے دنیا کے خطرناک ترین افراد موجود ہیں"۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ القاعدہ تنظیم زیادہ مؤثر تجارتی الکٹرونک دھماکا خیز آلات تک پہنچ سکتی ہے جس کے ذریعے زیادہ طویل مدت تک دھماکوں کی کارروائیاں جاری رکھنا ممکن ہوگا۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ 2016 میں ابھی تک بحر عرب اور خلیج عدن میں اسلحہ ضبط کرنے کی تین کارروائیاں عمل میں آچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 25 ستمبر کو اسلحہ ضبطی کی کارروائی کے دوران رابطے کا سازوسامان بھی ملا جن میں موبائل فونز اور سیٹلائٹ فونز شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک میں رابطوں کا تجزیہ کیا گیا جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ مذکورہ سامان کی ضبطی سے پہلے والے مہینے میں زیادہ تر فون کالیں ایک ایرانی نمبر سے موصول ہوئیں۔