ایران میں سُنیوں کو پھانسیوں سے علاقائی کشیدگی کو شہ ملے گی: سُنی عالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے ایک سرکردہ سُنی عالم دین مولوی عبدالحمید نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سُنی مسلمانوں کو پھانسیوں سے خلیج کے خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ مل سکتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے تو غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔

مولوی عبدالحمید ایران کی سُنی اقلیت کے روحانی پیشوا سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ''پھانسیوں کے اس عمل میں بالغ نظری اور رواداری کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ پھانسیاں ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب پورے خطے ہی کو انتہا پسندی کے خطرے کا سامنا ہے''۔

انھوں نے ہفتے کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا:''ہماری بڑی شکایت یہ ہے کہ ان پھانسیوں کے وقت خطے کی حساس صورت حال کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے''۔

ایران میں گذشتہ ہفتے بیس سنی کردوں کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ان کے خلاف مقدمات کی عوامی سماعت نہیں کی گئی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان سے جبروتشدد کے ذریعے اعترافی بیانات لیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر زید رعد الحسین نے وسیع تر اور مبہم جرائم سے ایک سنگین ناانصافی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ایران کی وزارت خارجہ نے ان کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اس کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ غیرملکوں کے حمایت یافتہ علاقائی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت پالیسی اقدامات اختیار کیے ہیں''۔

واضح رہے کہ خطے کی دو علاقائی طاقتوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان اس وقت سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے پر فرقہ وار اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا الزام عاید کیا ہے۔سعودی عرب میں جنوری میں ایک شیعہ عالم کا دہشت گردی اور بغاوت کے الزام میں سرقلم کیے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع ہیں۔

ایران نے شیعہ عالم کے عدالتی حکم پر سرقلم کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔مشتعل ایرانیوں نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ایران میں ہر سال دنیا بھر میں سب سے زیادہ پھانسیاں دی جاتی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2015ء میں ایران میں 977 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔پاکستان میں 320 مجرموں کو پھانسیاں دی گئی تھیں اور سعودی عرب میں 158 مجرموں کے سرقلم کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں