.

ایرانی حکم پر عراق سے "مجاہدین خلق" کی بے دخلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران کی جانب سے دیے گئے احکامات کی بنیاد پر عراقی حکومت ، ایرانی اپوزیشن کی تنظیم مجاہدین خلق کے تمام ارکان کو لیبرٹی کیمپ سے نکال دے گی۔ اس اقدام کا اعلان بغداد میں ایرانی سفیر حسن دانائی فر کی زبانی سامنے آیا ہے۔

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی "ارنا" کے مطابق دانائی کا کہنا ہے کہ بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک واقع کیمپ سے تنظیم کے بقیہ اراکین کو آئندہ 45 روز کے اندر بے دخل کر دیا جائے گا۔

یہ بیان اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR ) کے دفتر کی جانب سے 19 جولائی ہونے والے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں لیبرٹی کیمپ کے 1700 سے زیادہ افراد کو دیگر ممالک میں محفوظ ٹھکانوں تک منتقل کرنے کی منظور دی گئی تھی۔

ایرانی سفیر کے مطابق "عراقی حکومت نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر موجود مجاہدین خلق کے 65% فی صد عناصر کو نکالنے کے لیے بغداد میں اقوام متحدہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی ہے۔ عراق کئی برسوں سے ایرانی اپوزیشن کو بے دخل کرنے کے درپے ہے"۔

دانائی نے واضح کیا کہ ابھی تک مجاہدین خلق کے عناصر کو نکالے جانے میں درپیش تاخیر کی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عراقی حکومت پر ڈالا جانے والا دباؤ ہے، اس کا مقصد تنظیم کو باقی رکھنا اور اسے ایرانی نظام پر دباؤ کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا ہے۔

یاد رہے کہ البانیا نے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے نومبر 2014 میں عراق میں لیبرٹی عسکری کیمپ سے ایرانی حزب اختلاف کے 600 افراد کو دارالحکومت تیرانا منتقل کیا۔ یہ اقدام امریکی انتظامیہ کے البانیا کے ساتھ مذاکرات اور ایرانی حزب اختلاف کے عناصر کو تیرانا میں بسانے کے لیے 2.5 کروڑ ڈالر کی امداد پیش کیے جانے کے بعد عمل میں آیا تھا۔

لیبرٹی کیمپ میں باقی رہ جانے والے مجاہدین کے بقیہ ارکان کو اب بھی بسا اوقات ایرانی نواز شیعہ ملیشیاؤں کی جانب سے راکٹ حملوں کا سامنا رہتا ہے۔ ان کارروائیوں میں 120 افراد جاں بحق اور تقریبا ایک ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں آخری کارروائی 4 جولائی کو گئی جس میں 22 افراد زخمی ہوئے تھے۔ مذکورہ کارروائیوں کا مقصد ان پناہ گزینوں کو دہشت زدہ کرنا اور ان کو عراق سے کوچ کرجانے پر مجبور کرنا ہے۔