یمنی فوج کی صنعاء کے نواح کا کنٹرول لینے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی جانب سے نہم گورنری پر کنٹرول حاصل کرنے کا معرکہ شروع ہو گیا ہے۔ کویت میں یمنی بات چیت کی راہیں مسدود ہونے کے بعد زمینی طور پر یہ پہلی پیش رفت ہے۔

وسیع پیمانے پر ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں نہم گورنری کے مرکزی علاقے المدید کے ساتھ واقع تزویراتی اہمیت کے حامل "جبل ِ منارہ" کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

نہم کے محاذ کو یمنی دارالحکومت صنعاء سے قریب ترین محاذ شمار کیا جا رہا ہے۔ اس کی آزادی سے مزاحمت کاروں کو دارالحکومت کی بیرونی حدود تک پہنچنے کا موقع مل جائے گا۔

"العربیہ" کے ذرائع کے مطابق سرکاری فوج اور مزاحمت کاروں نے الغیل گورنری کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول واپس لینے کے بعد حوثی ملیشیاؤں کے ایک اہم گڑھ العرضی گاؤں کی جانب پیش قدمی کی اور یہاں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

یمنی فوج کی جانب سے کی جانے والی اپیل میں دارالحکومت اور اس کے نواح میں بسنے والی آبادی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور ان کے جمع ہونے کے مقامات سے دور رہیں۔

ان معرکوں کے ساتھ ساتھ سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے اتحادی افواج کی معاونت سے المتون گورنری میں واقع جبال حام میں ملیشیاؤں کے خلاف بڑا حملہ شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حجہ کے شمال مغرب میں حرض کے محاذ پر بھی لڑائی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں